عوام کو دہشت زدہ کرنے سے روکنے کیلئے سخت اقدامات ناگزیر:بابل سپریا
کلکتہ : مرکزی وزیر بابل سوپریہ ایک بار یہ کہتے ہوئے سنسنی پھیلادی ہے کہ ہندوستان کے آئین میں ریاستی حکومت کے ذریعہ عوام کو دہشت زدہ کرنے سے روکنے کے لئے ‘‘صدر راج ’’ کے نفاذ کے دفعات موجود ہیں اور اس کو نافذ کیا جاسکتا ہے ۔سوپریہ نے حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کے مبینہ قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اب تک بی جے پی کے 100 سے زیادہ کارکنوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے لیکن جب بھی اس کی نشاندہی کی جاتی ہے تو ریاستی حکومت کارروائی کرنے کے بجائے خارج کردیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنان کو مارا جارہا ہے ۔ اگر دیدی (ممتا بنرجی) سمجھتی ہیں کہ مرکز میں ایک کمزور حکومت ہے تو ، وہ ایک بہت بڑی غلطی کر رہی ہیں۔ بی جے پی کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ آئین میں ہی ایسی دفعات موجود ہیں کہ اس طرح کی تباہ کن اور سخت حکومت کو کیسے روکا جائے ۔ آئین میں ایسی حکومتوں کے لئے دوائیاںموجود ہیں ۔ یہ راستہ اختیار کرنا ناممکن نہیں ہے ۔ تو دیدی کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ وہ لوگوں کو ووٹ کاسٹ کرنے سے دور رکھنے کے لئے اگلے چھ ماہ کے دوران لوگوں پر تشدد کرتی رہیں گی۔مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کو چھ ماہ سے بھی کم کا عرصہ باقی ہے ۔ بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوگئی ہے ۔لوک سبھا انتخابات میں 42میں سے 18سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں اور اب اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔سپریہ کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش کے مقابلے بنگال میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہے اور پارٹی اس طرح کے بیانات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہے ۔ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگاتارائے نے کہا کہ بابل سپریہ ریاست میں آئین کے آرٹیکل 356 کے نفاذ کا حوالہ دے رہے ہیں۔ لیکن ترنمول کانگریس اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر آرٹیکل 356 کے نفاذ کے لئے ضروری ہدایات دے رکھی ہیں ۔
وہ صرف کچھ سیاسی بیانات دے رہا ہے ، جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اگر مرکز کو آرٹیکل 356 پر عمل کرنا ہے تو ، انہیں پہلے اترپردیش کو دیکھنے کی ضرورت ہے ۔مرکزی وزیر بابل سپریہ نے بھی اس سے قبل بھی اس طرح کے بیانات دے چکے ہیں ۔ستمبر میں انہوں نے بی جے پی کارکنوں کی مبینہ ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگال میں صدر راج کے نفاذ کی سخت ضرورت ہے ۔سوپریہ نے کہا کہ بی جے پی جلوس کے درمیان ایک سکھ نوجوان کی پٹائی ، منیش شکلا کا قتل اور مرشدآباد ضلع سے القاعدہ کے مبینہ اراکین کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ بنگال میں صدر راج نافذ کیا جائے ۔مغربی بنگال کانگریس کے لیڈر پردیپ بھٹا چاریہ نے کہاکہ بی جے پی لیڈران بنگال میں صدررا ج کے نفاذ کی بات کرکے ممتا حکومت پر دبائو بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔مغربی بنگال میں امن و امان یقینی طور پر خراب ہوا ہے لیکن اس حد تک نہیں کہ صدر راج کے نفاذ کی ضرورت ہے ۔ یوپی میں امن و امان بہت خراب ہے ۔ ٹی ایم سی حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے یہ صرف ایک سیاسی بیان ہے ۔
