کولکاتہ، 19 فروری (یو این آئی) مغربی بنگال میں دعووں اور اعتراضات کی سماعت کے دوران جمع کرائے گئے ووٹر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل میں نئی رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ 21 فروری کی ڈیڈ لائن سے محض تین دن پہلے بھی تقریباً 20 لاکھ دستاویزات کا ضلع مجسٹریٹس کے ذریعے دوبارہ تصدیق کا عمل التوا کا شکار ہے ۔ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل افسر (سی ای او) دفتر کے حکام کے مطابق زیر التوا معاملات کا بڑا حصہ ”منطقی تضادات” کے زمرے میں آتا ہے ۔ مائیکرو آبزرورز نے جاری تصدیقی مہم کے دوران کئی درخواستوں میں ایسی بے قاعدگیاں پائی ہیں جو الیکشن کمیشن کے منظور شدہ 13شناختی دستاویزات سے مطابقت نہیں رکھتیں ہیں۔ سی ای او دفتر کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان مشاہدات کی بنیاد پر ایسے معاملات متعلقہ ڈی ای او کو دوبارہ تصدیق کیلئے بھیج دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمل جلد مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کریں۔ تاخیر کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سماعت کے دوران جمع کیے گئے تقریباً ایک لاکھ 14 ہزار دستاویزات ابھی تک ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیے جا سکے ، جس کے باعث ان درخواستوں کی جانچ شروع ہی نہیں ہو سکی ہے ۔ ان حالات کے پیش نظر 21 فروری کی آخری تاریخ تک کام مکمل ہونا مشکل نظر آ رہا ہے ۔
امکان ہے کہ جانچ کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کی جا سکتی ہے ، جس سے حتمی ووٹر فہرست کے اجرا میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے ۔ فی الحال حتمی ووٹر فہرست 28 فروری کو جاری کی جانی ہے ، جب کہ اس سے پہلے یہ تاریخ 14 فروری مقرر تھی جسے بعد میں تبدیل کیا گیا۔ دوسری جانب یکم مارچ سے الیکشن کمیشن کی مکمل بنچ کے مغربی بنگال کے دو روزہ دورے پر آنے کا امکان ہے ، جہاں وہ خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) مہم کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔ کمیشن کے اس دورے کے بعد ہی ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان متوقع ہے ۔ ذرائع کے مطابق کمیشن گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کم مراحل میں ووٹنگ کرانے پر غور کر رہا ہے ۔ سی ای او دفتر نے ایک ہی مرحلے میں انتخابات کرانے کی تجویز دی ہے ، تاہم حتمی فیصلہ کمیشن ہی کرے گا۔