بنگلورو،27 مارچ (یواین آئی) کہا جاتا ہے کہ کرکٹ ایک جینٹل مین یعنی شائستہ افرادکا کھیل ہے ، لیکن دوسری جانب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ایک ایسا رنگا رنگ میلہ ہے جہاں یہی جینٹل مینکبھی کبھار بچوں جیسا جوش و خروش دکھاتے نظر آتے ہیں۔ ہفتہ کی شب چناسوامی اسٹیڈیم میں ایک بار پھر یہی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب دفاعی چمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا مقابلہ سن رائزرس حیدرآباد سے ہوگا۔آر سی بی نے نئی ملکیت کے تحت ایک نئے دورکا آغازکیا ہے ۔ یہ فرنچائز جسے وجے مالیا نے 2008 میں 450کروڑ روپے میں خریدا تھا، گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے اب16,500 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی حامل ہو چکی ہے ۔ فی الحال اس کی ملکیت آدتیہ برلاگروپ کے پاس ہے ، جس میں ٹائمز آف انڈیا گروپ، بولٹ وینچرز اور بلیک اسٹون بھی شراکت دار ہیں۔ یہ معاہدہ آئی پی ایل کی بڑھتی ہوئی تجارتی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور ٹیم سے میدان کے اندر اور باہر غیر معمولی توقعات وابستہ کرتا ہے ۔تاہم دولت اور ٹرافیاں ماضی کی تلخ یادوں کو مکمل طور پر مٹا نہیں سکتیں۔ گزشتہ سال جب آر سی بی نے بالآخر اپنی بدقسمتی کا سلسلہ توڑتے ہوئے آئی پی ایل کا خطاب جیتا، تو جشن کا یہ موقع ایک افسوسناک سانحے میں بدل گیا۔ اسٹیڈیم کے باہر بھگدڑ مچنے سے خوشیاں ماند پڑگئیں اور اس واقعہ میں گیارہ شائقین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، جبکہ حکام کو شدید تنقید اور سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ااگر میدان کی بات کی جائے تو چناسوامی اسٹیڈیم بیٹرس کے لیے نعمت سے کم نہیں۔ یہاں کی پچ نہایت ہموار اور تیز ہے جبکہ باؤنڈریز بھی نسبتاً چھوٹی ہیں، جس کے باعث گیند باآسانی ہوا میں بلند ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔ ٹاس کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے تاہم کوئی چالاک بولر یا جارحانہ بیٹر چند ہی اوورز میں میچ کا رخ بدل سکتا ہے ۔آر سی بی کی بیٹنگ لائن کی قیادت ویراٹ کوہلی کر رہے ہیں، جو اپنی شاندار ٹائمنگ، برق رفتار فٹ ورک اور اننگزکی رفتار کو بوقتِ ضرورت بڑھانے کی صلاحیت کے باعث بولروںکے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ فل سالٹ اور ٹم ڈیویڈ ابتدائی اوورز میں انتہائی تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہیں، جبکہ رجت پاٹیدار اور وینکٹیش ایر مڈل آرڈرکو استحکام فراہم کرتے ہیں اور دباؤ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔دوسری جانب ایشان کشن کی قیادت میں سن رائزرس حیدرآباد جارحانہ اور غیر متوقع کھیل کے امتزاج کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ٹریوس ہیڈ اور ابھیشیک شرما کی اوپننگ جوڑی چند ہی اوورز میں میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ نمبر تین پر ہینرک کلاسن طاقت اور حکمت عملی کے حسین امتزاج کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہیں، جبکہ لیام لیونگ اسٹون، نتیش ریڈی اور انیکیت ورما مڈل اور لوئر مڈل آرڈر میں بڑے شاٹس کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پیٹ کمنزکی غیر موجودگی سے بولنگ شعبے میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے ، جس کی وجہ سے جے دیو ادنادکٹ اور برائیڈن کارس پر ابتدائی کامیابیاں دلانے کا دباؤ بڑھ گیا ہے ؛ وہیں ہرشل پٹیل اور ہرش دوبے کو مڈل اوورز میں رنز کی رفتار پر لگام لگانی ہوگی۔’امپیکٹ پلیئر’ کے طور پر نامزد ذیشان انصاری، اگر جلد ہی اپنی لے حاصل کر لیتے ہیں، تو وہ میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔