بنگلور کو اسٹارز نے مایوس کیا، کوہلی کا بدترین ٹورنمنٹ

   

کپتان ڈوپلیسی، آسٹریلیائی میکسویل نے اہم میچز میں خراب کھیلا ۔ سراج نے سب سے زیادہ چھکے دیئے

ممبئی: رائل چیلنجرز بنگلور کی ٹیم آئی پی ایل میں تیسرے نمبر پر رہی۔ دوسرے کوالیفائر میں انہیں راجستھان رائلز سے شکست کا سامنا کرناپڑا۔ پچھلے دو برسوں کی طرح اس سال بھی بنگلورو نے اچھی شروعات کی لیکن سیزن کے وسط تک آتے آتے ٹیم کی فارم خراب ہونے لگی۔ آخر میں، جب ممبئی انڈینز نے دہلی کیپٹلز کو شکست دی، تو بنگلورو پلے آف میں داخل ہوا۔ بنگلور کی ٹیم پورے سیزن میں اپنے ٹاپ آرڈر سے پریشان رہی۔ فاف ڈو پلیسی کی فارم پورے سیزن میں نرم گرم ہوتی رہی۔ انوج راوت شروع میں ان کے اوپننگ پارٹنر تھے ۔ لیکن سیزن کے وسط میں ویراٹ کوہلی ان کے ساتھی بنے ۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف آخری میچ کوچھوڑ دیں تووہ کبھی بھی رنگ میں نظر نہیں آئے ۔ یہ ایسا سیزن تھا جسے کوہلی ہمیشہ کیلئے بھولنا چاہیں گے ۔ گلن میکسویل نے بلے اور گیند دونوں سے ٹکڑوں میں پرفارم کیا۔ وہیں دنیش کارتک سیزن کے بہترین فنیشر ثابت ہوئے اور ان کی ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی ہوئی۔ ہرشل پٹیل نے ایک بار پھر دکھایا کہ انہیں ڈیتھ اوور اسپیشلسٹ کیوں کہا جاتا ہے ۔ انہیں چند میچوں میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ ان کے ساتھ دوسرے کوالیفائر میں راجستھان رائلز کے خلاف ہوا۔ محمد سراج نے اس سیزن میں سب سے زیادہ 31 چھکے کھائے ۔ ان کی اکانومی 10.07 رہی، جو کہ آئی پی ایل کی تاریخ میں کم از کم 50 اوورز کرنے والے گیند بازوں کی فہرست میں یہ سب سے زیادہ اکانومی ہے ۔ ونندو ہسرنگا کو گزشتہ سیزن میں صرف دو میچ کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ لیکن اس بار بنگلورو نے انہیں 10.75 کروڑ میں خریدا اور انہیں اعتماد کے ساتھ موقع دیا۔ اس سے ٹیم کو یزویندر چہل کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ وہیں نیلامی میں نہ خریدے گئے رجت پاٹیدار کو ٹیم میں زخمی لونیت سسودیا کی جگہ ملی اور انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ آئی پی ایل پلے آف میں سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بن گئے ۔ دوسرے کوالیفائر میں بھی انہوں نے شاندار نصف سنچری اسکور کی۔