منموہن سنگھ حکومت میں ہزاروں بنگلہ دیشی واپس بھیجے گئے ۔ اعداد و شمار سے حقائق کا انکشاف
نئی دہلی 3 جنوری : ملک بھر میں در اندازی کا مسئلہ انتہائی شدت کے ساتھ پیش کرنے والی بی جے پی زیر قیادت مودی حکومت میں سب سے کم بنگلہ دیشیوں کو ملک سے واپس بھیجا گیا ہے ۔ مودی حکومت کے ذمہ دار وزراء خود وزیر اعظم ‘وزیر داخلہ امیت شاہ اور کئی دوسرے قائدین کی جانب سے بارہا اپوزیشن خاص طور پر کانگریس ‘ ترنمول کانگریس اور دوسروں پر ملک میں در اندازوں کو بسانے اور اس تعلق سے نرم رویہ اختیار کرنے کے الزامات عائد کئے جا تے ہیں تاہم اگر حقیقی معنوں میں در اندازوں کے خلاف کارروائی کا جائزہ لیا جائے تو 2006 سے 2014 تک کے آٹھ برس میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیشیوں کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے ۔ جو اعداد و شمار ہیں وہ بی جے پی اور اس کے قائدین کے در اندازی کے دعووں اور بی جے پی حکومت کی عدم کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2006 میں منموہن سنگھ کی حکومت میں جملہ 13.7 ہزار بنگلہ دیشیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا تھا ۔ اسی طرح 2007 میں 12.1 ہزار کو واپس بھیجا گیا ۔ 2008 میں 12.6 ہزار بنگلہ دیشی ہندوستان سے نکالے گئے ۔ 2009 میں 10 ہزار 600 بنگلہ دیشی واپس بھیجے گئے ۔ 2010 میں 6.3 ہزار ‘ 2011 میں 6.8 ہزار 2012 میں 6.5 ہزار اور 2013 میں 5.2 ہزار بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجا گیا تھا ۔ تاہم 2014 میں مودی حکومت قائم ہوئی جس کے بعد کسی بھی سال میں ایک ہزار بھی بنگلہ دیشی واپس نہیں بھجے گئے ۔ 2014 میں 989 ‘ 2015 میں 474 2016 میں صفر ‘ 2017 میں 51 ‘ 2018 میں : 445 2019 میں 299 بنگلہ دیشی 2020 میں 113 بنگلہ دیشی ‘ 2021 میں 246 بنگالہ دیشی 2022 میں 153 بنگلہ دیشی اور 2023-24 میں 411 بنگلہ دیشیوں کو ہی ہندوستان سے نکال کر واپس بھیجا گیا ہے ۔
