بنگلہ دیشی شہریوں سے مذہبی اتحاد قائم رکھنے محمد یونس کی اپیل

   

ڈھاکہ : شیخ حسینہ کے ہندوستان فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے خلاف حملوں اور تشدد کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔ پولیس یونین کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کی وجہ سے حکام کو امن وامان کے قیام میں چیلنج کا سامنا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے قوم سے مذہبی اتحاد و یگانگت قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یہ اپیل آج ہفتہ کے روز ملک میں شیخ حسینہ کی سابقہ حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس کی گولی سے ہلاک ہونے والے ایک طالب علم کی روتی ہوئی ماں کو گلے لگاتے ہوئے کیا۔ یہ عوامی مظاہرے شیخ حسینہ کے پندرہ سالہ دور حکمرانی کے خاتمہ کا سبب بنے۔ نوبل انعام یافتہ 84 سالہ ماہر اقتصادیات اور بینکر محمد یونس اس ہفتہ ہی یورپ سے واپس وطن واپس لوٹے ہیں تاکہ وہ ایک عارضی انتظامیہ کی قیادت کر سکیں، جو ملک میں بد نظمی کے خاتمہ اور جمہوری اصلاحات کو نافذ کرنے کے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ محمد یونس نے آج صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ذمہ داری ایک نیا بنگلہ دیش بنانا ہے۔ دوسری جانب سابقہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے ملک کی ہندو اقلیت کے خلاف کیے گئے کئی انتقامی حملوں نے پڑوسی ملک بھارت میں خدشات کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیشں کے اندر بھی خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔