بنگلہ دیش میں انقلاب ، تین بڑے چہرے۔ چھوٹی عمریں بڑا کارنامہ

   

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے تحفظات کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ اس تحریک کے خلاف شیخ حسینہ حکومت نے سختی کی تو یہ تحریک انہیں اقتدار سے ہٹانے کی تحریک میں بدل گئی۔ آخرکار حالات اتنے بگڑ گئے کہ 4 اگست کو شیخ حسینہ نے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور ملک چھوڑ کر فرار ہوگئیں۔ فی الحال وہ ہندوستان میں ہیں اور یہاں سے برطانیہ، فن لینڈ جیسے کسی ملک میں جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس دوران ہر کوئی یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ اتنی بڑی تحریک اچانک کیسے کھڑی ہو گئی اور اس کے پیچھے کون تھا۔جنہوں نے یونیورسٹی کیمپس سے تحریک شروع کر کے 15 سال سے اقتدار میں بیٹھی شیخ حسینہ کی حکومت گرا دی۔اس کا جواب تین طلبہ ہیں: ناہید اسلام، آصف محمود اور ابو بکر مزملدار۔تینوں ہی طلبہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور تحفظات کے خلاف چلنے والی تحریک کے رہنما ہیں۔ ایک خبر کے مطابق تینوں کو 19 جولائی کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان سے سخت پوچھ گچھ کی گئی اور شدید ترین تشدد بھی کیا گیا۔ پھر 26 جولائی کو انہیں رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد تحریک کو ان لوگوں نے دوبارہ آگے بڑھایا اور تقریباً 10 دن کے اندر ہی اقتدار کا تختہ پلٹ گیا۔تینوں نے آج ایک ویڈیو جاری کر کے اعلان کیا کہ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس ہوں گے، جو نوبل انعام یافتہ اقتصادیات کے ماہر ہیں۔عبوری حکومت کے قیام کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس میں ان تینوں طلبہ رہنماؤں کا بھی اہم کردار ہے۔ناہید اسلام طلبہ تحریک کا سب سے بڑا چہرہ ہیں۔ جنہوں نے اتوار کو بیان دیا تھاکہ ’’آج ہم نے لاٹھی اٹھائی ہے، اگر لاٹھی کام نہیں آئی تو ہم ہتھیار اٹھانے کیلئے بھی تیار ہیں۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک کو خانہ جنگی میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ اب شیخ حسینہ کو فیصلہ کرنا ہیکہ وہ عہدے سے ہٹیں گی یا عہدے پر قائم رہنے کیلئے خونریزی کا سہارا لیں گی‘‘۔ تحریک کے سب سے بڑے چہرے ناہید اسلام کی بات کریں تو وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے طالب علم ہیں۔ وہ اس تحریک کے رہنما ہیں، جس کا نام ’’اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمینیشن موومنٹ ‘‘ (ایس اے ڈی ایم ) ہے۔ ایس اے ڈی ایم کے بیانر تلے طلبہ نے مطالبہ کیا تھا کہ بنگلہ دیش میں کوٹے کے نظام میں تبدیلی کی جائے۔
اس کے تحت 30 فیصد تحفظات بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں حصہ لینے والوں کے خاندانوں کو دیئے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہیکہ ان تینوں طلبہ رہنماؤں کی عمریں 25 سال کم ہیں ۔ بنگلہ دیش میں کل 56 فیصد تحفظات فرسٹ اور سیکنڈ کلاس ملازمتوں میں ملتے ہیں۔ اس نظام کو امتیازی اور سیاسی فائدے کیلئے استعمال ہونے والا بتایا جاتا رہا ہے۔ ناہید اسلام کے ایک اور ساتھی آصف محمود ڈھاکہ یونیورسٹی میں لسانیات کے طالب علم ہیں جبکہ ابو بکر مزملدار بھی ڈھاکہ یونیورسٹی سے ہی پڑھ رہے ہیں۔ وہ جغرافیہ کے طالب علم ہیں اور بنگلہ دیش کی تاریخ کو بدلنے میں مصروف ہیں۔ ابو بکر کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا اور تحریک میں حصہ لینے کی وجہہ سے شدید تشدد کیا گیا تھا۔