محمد یونس کی بحیثیت سربراہ حلف برداری‘ حکومت میں طلباء نمائندے بھی شامل
ڈھاکہ :دیش میں عبوری حکومت کی تشکیل عمل میں آگئی ہے ۔ محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب بنگلا دیش کے ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی جہاں ڈاکٹر یونس سے بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے حلف لیا۔رپورٹس کے مطابق طلبہ رہنما ناہید اسلام اور آصف محمود بھی 17 رکنی عبوری حکومت میں شامل ہیں۔ عبوری حکومت کی سربراہی کیلئے پروفیسر محمد یونس کا نام طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے دیا گیا تھا۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی ڈھاکہ میں 8 اگست 2024 کو بنگلہ دیش کی نئی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کی حیثیت حلف برداری عمل میں آئی ۔ قبل ازیںمحمد یونس نے بنگلہ دیش آمد پر سب سے پْرسکون رہنے کی اپیل کی اور نئی جیت کا بہترین استعمال کرنے کیلئے ہر قسم کے تشدد سے پرہیز کرنے کی درخواست کی۔ محمدیونس نے ہفتوں کے تشدد کے بعد امن کی بحالی پر عوام پر زور دیا ۔ پر تشدد واقعات میں کم از کم 455 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ وہ ایک دوسرے بشمول اقلیتوںکی حفاظت کر یں جو تشدد کے دوران حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ ملک میں آمد کے بعد، یونس نے بنگلہ دیش کے مہلک مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ محمد یونس نے کہا کہ ان کی قربانیوں سے قوم کو دوسری آزادی ملی ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں بنگلا دیش نیشنلشٹ پارٹی کے اراکین، برطانیہ، جاپان، چین، فلپائن، ایران، ارجنٹائن، قطر، نیدرلینڈز اور متحدہ عرب امارات کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور قائد اپوزیشن راہول گاندھی ؎نے محمد یونس کو مبارکباد پیش کی اورنیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ مودی نے امید ظاہر کی کہ ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے حالات جلد معمول پر آجائیں گے۔ دوسری طرف مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی 50 سے زیادہ معروف شخصیات نے بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو خط لکھا اور ان پر زور دیا کہ وہ معاشرے کے تمام طبقات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں فلم ساز اپرنا سین، ماہر تعلیم پبیترا سرکار اور سپریم کورٹ کے سابق جج اشوک گنگولی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ ایک برادری کی دوسری برادری کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنے کی مثالوں کو بھی سراہا ہے۔دوسری جانب ملک سے فرار ہونے والی مستعفیٰ وزیراعظم حسینہ واجد کے مستقل قیام کا فیصلہ ابھی نہ ہوسکا۔