بنگلہ دیش بچوں میں طب دق کا پتہ لگانے میں اب بھی بہت پیچھے ہے: ڈبلیو ایچ او
ڈھاکہ: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں تپ دق (ٹی بی) کے 82 فیصد معاملوں کی تشخیص اور علاج کیا گیا جبکہ بقیہ 18 فیصد کا پتہ نہیں لگایا گیا۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ یہ 18 فیصد مریض طبی علاج سے باہر رہ گئے ہیں۔ چونکہ تمام معاملوں کا پتہ نہیں چل سکا ہے ، اس لیے بنگلہ دیش اب بھی زیادہ تپ دق کے بوجھ والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے ۔ بنگلہ دیش بالخصوص بچوں میں تپ دق کا پتہ لگانے میں بہت پیچھے ہے ۔ماہرین کے مطابق ملک سے تپ ودق کے خاتمے میں بنگلہ دیش کے اب بھی پیچھے رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تمام مریضوں کا پتہ نہیں چل پاتا ہے ۔ لوگ یہ ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ انہیں تپ و دق کی بیماری ہے ۔ یہ شرم، غفلت اور بیداری کے فقدان کی وجہ سے ہے ۔ اس کے علاوہ، جو لوگ ملازمت کر رہے ہیں، وہ اپنی بیماری کی تشخیص کے واسطے کسی معالج کے پاس جانے کے لیے کام چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔تپ دق سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی تازہ ترین عالمی ٹی بی رپورٹ (2022) میں کہا گیا ہے کہ سال 2021 میں بنگلہ دیش میں تپ ودق سے کل 42,000 افراد فوت ہوئے ۔ایک اندازے کے مطابق اسی سال تقریباً 375,000 افراد تپ ودق میں مبتلا ہوئے ۔ متاثرہ افراد میں سے 82 فیصد کا طبی علاج ہوا۔ مشتبہ کیسز میں سے 18 فیصد کی تشخیص نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں طبی علاج کے تحت لایا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تپ دق کا علاج دستیاب ہے ۔ حکومت کی طرف ادویات مفت فراہم کی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود اموات کی سب سے بڑی وجہ تمام کیسز کا پتہ نہ لگنا اور عوام میں بیداری کا فقدان ہے ۔