ڈھاکہ ۔ حکومت بنگلہ دیش نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے انفکشن کیسیس اور اموات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیر سے سات روز تک ملک بھر میں لاک ڈاون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبار ڈھاکہ ٹریبون کے مطابق وزیر روڈ ٹرانسپورٹ عبید القادر نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران آج یہ اعلان کیا۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز بنگلہ دیش میں ایک ہی دن میں سب سے زیادہ 6830 کیسیس سامنے آئے تھے اور اس طرح انفکشن سے متاثر ہونے والوں کی جملہ تعداد 624,594 ہوگئی جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 50 اموات سے فوت ہونے والوں کی تعداد 9155 تک جا پہنچی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے ایک ڈیٹا میں یہ تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ مسٹر قادر نے جو حکمراں جماعت عوامی لیگ کے جنرل سکریٹری بھی ہیں، مزید کہا کہ پیر سے حکومت نے ایک ہفتہ کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کووڈ ۔ 19 کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ البتہ لازمی اور ہنگامی خدمات لاک ڈاون سے مستثنیٰ رہیں گی۔ فیکٹریاں کھلی رہیں گی اور ورکرس شفٹس میں حفظان صحت کو دھیان میں رکھتے ہوئے کام کریں گے۔ دوسری طرف ریاستی وزیر برائے پبلک ایڈمنسٹریشن فرہاد حسین نے کہا کہ اس لاک ڈاون میں تمام دفاتر اور عدالتیں بند رہیں گی لیکن ملز اور دیگر صنعتیں اپنی سرگرمیاں باریوں کی بنیاد پر جاری رکھیں گی۔ جب وزیر موصوف سے صنعتیں بند نہ رکھے جانے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ملز کو بند کردیا گیا تو وہاں کام کرنے والے ورکرس کے پاس اپنے آبائی مقامات واپس جانے کے سوائے کوئی دوسرا راستہ نہیں رہے گا۔ جبکہ ٹرانسپورٹیشن بھی بند رہے گا۔ ایسی صورت میں ورکرس کے لئے پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔