ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے سپریم کورٹ نے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو خارج کر دیا ہے ، جو ملک کے انسداد بدعنوانی کمیشن کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جس سے یونس کی تمام قانونی مشکلات کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ کے اپیلٹ ڈویژن نے یونس کے خلاف منی لانڈرنگ کیس پر اے سی سی کے بدعنوانی کو خارج کر دیا ان پر گرامین ٹیلی کام ورکرز پروفٹ پارٹیسیپیشن فنڈ سے 25.22 کروڑ ٹکا (امریکی ڈالر 2 ملین) کا غلط استعمال کرنے اور فنڈز کو غیر قانونی طور پر منتقل کرنے ، اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ملزمان کے خلاف 12 جون 2023 کو ڈھاکہ میں خصوصی جج کی سماعت میں باقاعدہ طور پر الزامات عائد کیے گئے تھے ۔چیف ایڈوزئزر یونس اور چھ دیگر کے پرنسپل وکیل، بیرسٹر عبداللہ المامون نے اپیلٹ ڈویژن کے فیصلے کے بعد کہا کہ ملزمان کے خلاف تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے ۔گزشتہ سال وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مسٹر محمد یونس کے خلاف الزامات کو “قانونی طور پر” کالعدم قرار دیا گیا ہے ۔