بنگلہ دیش پھر جل اٹھا، جھڑپوں میں 99 افراد ہلاک ،کئی زخمی

,

   

مختلف شہروں میں احتجاج ، کرفیو نافذ، انٹرنیٹ معطل، احتجاجی طلبہ نہیں دہشت گرد : وزیراعظم شیخ حسینہ

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا کی سیول نافرمانی کی تحریک شروع ہوگئی۔ احتجاجی طلبہ نے وزیراعظم حسینہ واجد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا جبکہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں ہلاکتوں کی تعداد 99 ہوگئی اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ ہلاکتوں میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔ حکومت نے ملک بھر میں غیرمعینہ مدت کیلئے کرفیو کا اعلان کردیا۔ انٹرنیٹ و موبائل سرویس بھی بند کردی گئی، پیر سے چہارشنبہ تک تعطیل کا اعلان کردیاگیا۔ عدالتیں بھی غیر معینہ مدت کیلئے بند رہیں گی۔ تازہ جھڑپیں کوٹا سسٹم مخالف مظاہرین اور حکمران جماعت کے کارکنوں کے درمیان ہوئی ہیں۔ عوامی لیگ اور اس کی طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے پولیس سے مل کر کوٹا مخالفین پر حملے بھی کئے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ مظاہرین نے آج سے ملک گیراحتجاج اور سیول نافرمانی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی اہم شاہراہیں بند ہیں اور مظاہرین حسینہ واجد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبا نے گزشتہ ماہ کے کریک ڈاؤن میں متاثرہ افراد کوانصاف و مراعات دینے کا بھی مطالبہ ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ نے سیول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے والے طلبہ کو دہشت گردقرار دیدیا۔بنگلہ دیش میں طلبہ نے اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا تاہم جب ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو طلبہ نے ملک بھر میں سیول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم شیخ حسینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر ڈالا۔سیول نافرمانی کی تحریک کے سلسلے میں اتوار کو بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 99افراد ہلاک اورکئی زخمی ہو گئے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ جو ملک کو غیرمستحکم کرنے نکلے ہیں وہ دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے ہم وطنوں سے اپیل ہیکہ ان دہشت گردوں کو سختی سے کچل دیں۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ ماہ کئی روز تک مظاہرے ہوئے تھے جن میں 200 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم کو ختم کردیا تھا مگر طلبہ اپنے ساتھیوں کو انصاف ملنے تک احتجاج جاری رکھنے اورسیول نافرمانی کا اعلان کرچکے ہیں۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ ماہ کوٹا سسٹم کے خلاف پْرتشدد احتجاج میں 200 سے زیادہ مظاہرین جاں بحق ہوئے تھے۔