بنگلہ دیش کا بھی ’اکھنڈ بھارت‘ کے نقشہ پر اعتراض

   

ڈھاکہ : نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت میں ’اکھنڈ بھارت ‘ کا نقشہ دیکھ کر پڑوسی ممالک برہم ہوگئے ہیں۔ پہلے نیپال، پھر پاکستان اور اب بنگلہ دیش کے قائدین کو ہندوستان کی پارلیمنٹ میں مبینہ اکھنڈ بھارت کا نقشہ پسند نہیں آیا۔ بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ میںاکھنڈ بھارت کی تصویر پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اس معاملے پر بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں نے پیر (5 جون) کو مظاہرہ کیا۔ بنگلہ سیاسی جماعتوں نے ہندوستان سے مطالبہ کیا ہے کہ گریفیٹی کو ہٹایا جائے۔ پڑوسیوں کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق اس میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ نہیں، بلکہ راجا اشوک کی سلطنت کے نقشہ کو دکھایا گیا ہے۔ہندوستان کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔اگرچہ بھارت کے اس بیان کے باوجود بنگلہ دیش میں بھی ہنگامہ جاری ہے،لیکن ابھی تک بنگلہ دیش میں حکمران عوامی لیگ نے اس معاملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ عوامی لیگ کے قائدین کا کہنا ہے کہ انہیں متحدہ ہندوستان کے نقشے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ بنگلہ دیش میں احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت میں نصب اس نقشے کے ذریعے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟ عوامی لیگ کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بھی اس معاملے پر ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم عوامی لیگ کے اتحاد میں شامل جسد پارٹی کے رہنما حسن الحق نے ایسا نقشہ بنانے کی مخالفت کی ہے۔اسی دوران حزب اختلاف کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے کہا کہ بنگلہ دیش کو کسی دوسرے ملک کے غیر منقسم نقشے میں دکھانا ملک کی آزادی اور خودمختاری کیلئے خطرہ ہے۔اس سے قبل نیپال اور پاکستان بھی ’اکھنڈ بھارت ‘ کے نقشے کی مخالفت کر چکے ہیں۔