نئی دہلی، 23 جنوری (یو این آئی) بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنے آبائی ملک میں ہونے والے انتخابات سے چند ہفتے قبل، جہاں ان کی پارٹی کو انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا ہے ، بنگلہ دیش کے اپنے ہم وطنوں کو اگست 2024 میں اپنی معزولی کے بعد قائم ہونے والی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ پلٹنے کیلئے متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ جمعہ کے روز یہاں ایک بڑی پریس کانفرنس سے آڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے ڈھاکہ میں عبوری حکام پر ملک کو انارکی (خلفشار) میں دھکیلنے اور جمہوریت کو شدید خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔ یہ ڈھاکہ میں 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش سے فوجی طیارے کے ذریعہ ہندوستان وارد ہونے کے بعد شیخ حسینہ کی پہلی میڈیا کانفرنس تھی۔ وہ گزشتہ 16 مہینوں کے دوران ملک میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ شیخ حسینہ نے کہا کہ پوری قوم کو محمد یونس کی قیادت میں اس کٹھ پتلی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے متحد ہو کر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے ۔ وہ تمام قوتیں جو 1971 کے جذبے کی حامی ہیں، وہ یونس حکومت کے غداری پر مبنی عزائم کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے ایک غیر جانبدار حکومت کی بحالی، روزانہ کے تشدد اور لاقانونیت کے خاتمے ، اقلیتوں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ”پریس اور اپوزیشن کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مبنی کارروائیوںکو روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں طلبہ کے احتجاج کے دوران اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش کو ایک ایسی غداری پرمبنی سازش کا سامنا ہے جس کا مقصد ملک کے علاقے کا سودا کرناہے ، اور متنبہ کیا کہ ملک کی سالمیت اور اتحاد خطرے میں ہے۔ موجودہ صورتحال کو خوف، جبر اور معاشی بدحالی سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش آج ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں خون بہہ رہا ہے ۔ شیخ حسینہ نے الزام لگایا کہ شدت پسندوں اور محمد یونس نے مجھے زبردستی نکال باہر کیا۔ شیخ حسینہ نے موجودہ بنگلہ دیش کو وسیع قید خانہ قرار دیا، جہاں عام لوگ روزانہ کے تشدد، عدم تحفظ اور معاشی تنگی کے درمیان بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔