بنیادی ڈھانچے پر پھر حملہ ہوا توجواب دیں گے :عراقچی کا انتباہ

   

تہران، 20 مارچ (یو این آئی) ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو وہ کوئی پابندی نہیں دکھائے گا۔ یہ انتباہ اُس اسرائیلی حملے کے بعد آیا ہے جس نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے ایرانی حصے کو نشانہ بنا کر دو بڑے ریفائنریز کی پیداوار روک دی تھی۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ایران کے جوابی اقدامات نے اب تک اپنے صلاحیتوں کا صرف ایک “حصّہ” استعمال کیا ہے ، ۔اُنہوں نے کہا کہ پابندی کی واحد وجہ درخواست کردہ تشدد میں کمی کا احترام تھا۔ عراقچی نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کی شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصان کو بھی حل کرنا ضروری ہے ۔ یہ انتباہ ایسے وقت آیا ہے جب ایران نے خلیجی ممالک میں متعدد تیل اور گیس پیداوار کی سہولیات کو نشانہ بنایا ہے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، اور برینٹ کروڈ بین الاقوامی معیارفی بیرل 115 ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے ۔ علاقائی کشیدگی اس وقت سے بڑھتی جا رہی ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں اب تک تقریباً 1,300 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں اُس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں ڈرون اور میزائل حملے کیے جنہوں نے اسرائیل، اردن، عراق اور اُن خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جو امریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کرتے ہیں، جس سے جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور عالمی مارکیٹس اور ہوابازی میں خلل پڑا۔