بوتل بند مشروبات کی فروخت 80 فیصد متاثر

   

Ferty9 Clinic

پیپسی ، کوکا کولہ اور دیگرکمپنیوں کو بھاری نقصانات کا سامنا ، لاک ڈاؤن کا منفی اثر

حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) ملک میں بوتل بند مشروبات بنانے والی کمپنیوں کو تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور حکومت کی جانب سے 3مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کے فیصلہ سے کوکا کولہ اور پیپسی کمپنیوں کے پراڈکٹس کی فروخت پر 80 فیصد اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ کوکا کولہ اور پیپسی کو اپریل تا جون کہ سہ ماہی کے دوران 20ہزار کروڑ کا کاروبار کرتے ہیں اور اب کمپنیوں کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کئے جانے کے سبب ان کمپنیوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ موسم گرما کے دوران کی جانے والی اس فروخت کے ذریعہ ان کمپنیوں کو سال بھر کی فروخت کا 80 فیصد حصہ حاصل ہوا کرتا تھا اور اپریل تا جون کے سہ ماہی کے دوران ہی لاک ڈاؤن نے کمپنیوں کی حالت کو ابتر کردیا ہے ۔ کمپنیوں کے ذرائع نے بتایا کہ ایک دہائی قبل جب ان مشروبات میں پیسٹیسائیڈ کے اضافی استعمال کے متعلق رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں اس وقت بھی یہ صورتحال نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اتنے بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹھنڈے بوتل بند مشروبات کی صنعت کا بھی یہی حال ہے جو دیگر صنعتوں کا ہے لیکن بوتل بند مشروبات کی صنعت کے لئے موسم گرما کے دوران فروخت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جاتا تھا اور اب اسی مدت میں مکمل لاک ڈاؤن نے کمپنیوں کی معاشی حالت کو ابتر کردیا ہے ۔ کوکا کولہ کمپنی کی جانب سے آئی پی ایل کو اسپانسر کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا تاکہ موسم گرما کے دوران منعقد ہونے والے ان میاچس کے دوران تشہیر کو ممکن بنایا جاسکے لیکن جو صورتحال پیدا ہوئی ہے کمپنی کو 20ہزار کروڑ کے نقصان کے ساتھ اضافی 300 کروڑ کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کمپنی کے معاشی ماہرین کا کہناہے کہ اگر مئی میں لاک ڈاؤن ختم بھی کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں عوام میں بوتل بند مشروبات کی جانب سے رغبت نہیں رہے گی اور لوگ ضروری اشیاء کی جانب متوجہ رہیں گے۔ بعض ماہرین کا کہناہے کہ شہریوں میں مشروبات اور دیگر اشیاء کے سلسلہ میں شبہات بھی پیدا ہونے لگیں گے اور ان شبہات کو دور کرنے کیلئے بھی بوتل بند کمپنیوں کو عوام کے خدشات و شبہات کے ازالہ کیلئے بڑے پیمانے پر تشہیر کرنی پڑے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندستان میں بوتل بند مشروبات تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے جاریہ سہ ماہی کے علاوہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا بھی جائزہ لیاجا رہا ہے۔