بودھن ضلع ہاسپٹل کی حالت ابتر، مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں

   

Ferty9 Clinic

کبھی دواؤں کی قلت تو کبھی ڈاکٹرس کی عدم دستیابی سے عوام کو مشکلات
بودھن۔/17 مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بودھن میں قائم گورنمنٹ ضلع ہاسپٹل کبھی ایریا ہاسپٹل کا درجہ رکھتا تھا، کانگریس دورحکومت میں ضلع ہیڈکوارٹر نظام آباد میں میڈیکل کالج کا قیام عمل میں آنے کے بعد تقریباً بارہ سال قبل بودھن ایریا ہاسپٹل کو ضلع ہاسپٹل کا درجہ دے دیا گیا تھا لیکن یہاں ضلع سطح کے ہاسپٹل میں جو سہولیات پائی جانی چاہیئے وہ تاحال مریضوں کو دستیاب نہیں ہے۔ اس ہاسپٹل سے رجوع ہونے والے مریضوں کو سابق میں موجود سہولیات تک بھی عدم دستیابی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ تقریباً دو سال سے بودھن ضلع ہاسپٹل کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔ ڈاکٹرس کی کمی ہے اور جو ڈاکٹرس موجود ہیں ان کے اپنے خانگی دواخانے ہیں۔ معاشی طور پر مجبور حالات کے مارے مریض سرکاری ہاسپٹل بودھن سے رجوع ہوتے ہیں جہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ کبھی ڈاکٹرس دستیاب نہیں تو ادویات کی قلت رہتی ہے، ادویات ہوں تو ڈاکٹرس عدم موجود ہوتے ہیں۔ گورنمنٹ ڈسٹرکٹ ہاسپٹل بودھن کو تقریباً منڈلوں اور پڑوسی ریاست مہاراشٹرا بارڈر سے متصل مہاراشٹرا کے شہری علاج معالجہ کیلئے بودھن کا رُخ کرتے ہیں یہاں گورنمنٹ ہاسپٹل کی کارکردگی سے عدم مطمئن مریض خانگی دواخانوں کا رُخ کرتے ہیں۔ اہم شکایت یہ ہے زچگی کیلئے رجوع ہونے والی بیشتر حاملہ خواتین کو مقامی دواخانہ کا انتظامیہ نظام آباد گورنمنٹ ہاسپٹل سے رجوع ہونے کا مشورہ دیتاہے۔ جو مریض دور دراز نظام آباد کے دواخانہ سے رجوع ہوتے ہیں دشواری محسوس کرتے ہیں وہ مقامی خانگی دواخانے میں ہزاروں روپئے فیس ادا کرکے شریک ہوتے ہیں۔ کمشنر میڈیکل ہیلت ریاست تلنگانہ اور مقامی رکن اسمبلی سدرشن ریڈی کو چاہیئے کہ وہ فوری لاپرواہ ڈاکٹروں و انتظامیہ کو فوری رخصت کرتے ہوئے قابل ڈاکٹرس کو یہاں متعین کریں۔