اسلام آباد۔ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے بدترین دور سے گزر رہی ہے اور آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 میں اس کی کارکردگی اوسط سے بھی کم رہی ہے اور گروپ مرحلے ناقص کاردگری نے سیمی فائنلز میں رسائی کے امکانات کو عملاً ختم کردیا ہے جبکہ بہت سے لوگ پاکستانی ٹیم اور اس کے کپتان بابر اعظم پر تنقید کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب ایک سینئر کھلاڑی نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح پی سی بی (پاکستان کرکٹ بورڈ) کی جانب سے سیاسی چالبازی، بند دروازے اور ڈریسنگ روم کے مباحثوں کو منکشف کرنا اور انہیں میڈیا کی بحث کا حصہ بنانا، یہ یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ ٹیم ورلڈ کپ میں ناکام رہے۔ پاکستان کے ایک سینئر کھلاڑی نے کہا کہ بورڈ چاہتا ہے کہ ٹیم ناکام ہو، وہ نہیں چاہتا کہ ہم ورلڈکپ جیتیں تاکہ وہ تبدیلیاں کر سکیں اور یہ کنٹرول کر سکیں کہ کون ٹیم کی قیادت کرتا ہے اور کون ٹیم میں آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی جان بوجھ کر جاری آئی سی سی ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناکامی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ ایسے وقت میں سیاست کھیل رہا ہے جب ٹیم ورلڈ کپ کھیل رہی ہے۔ سینئر کھلاڑی نے کہا کہ کھلاڑیوں میں کوئی بھی مسئلہ، لڑائی جھگڑا، اختلاف یا مسائل ہو تو کھلاڑی خود کسی بیرونی مداخلت کے بغیر نمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم کے اندر جو بھی لڑائی جھگڑے یا اختلاف رائے عام ہے، ہم سب سنیئر اور سمجھدار ہیں کہ ہم خود اس سے نمٹ سکتے ہیں۔ ہمیں بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے لیکن ڈریسنگ روم یا ہوٹل کے کمروں میں ہونے والی ہماری نجی گفتگو کو جان بوجھ کر میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگلی چیز جو کھلاڑی دیکھتے ہیں، میڈیا پر یہ بحث ہوتی ہے کہ کس نے کس کھلاڑی کے خلاف کیا کہا۔ سوشل میڈیا کو حرکت میں لایا جاتا ہے۔ یہ صرف ان کھلاڑیوں کے حوصلے کو مزید نقصان پہنچاتا ہے، جو پہلے ہی میچ جیتنے کے لیے جیتنے وال ااسکواڈ تیار کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈریسنگ روم سے منکشف ہونے والی بات چیت کے سنگین منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جسے پی سی بی کے اندر ذاتی مفادات نے ہوا دی ہے۔ یہ آخری چیز ہے جو کوئی بھی کھلاڑی کسی بھی کرکٹ ایونٹ سے پہلے اور اس کے دوران نہیں چاہتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ٹیم سب سے بڑا ٹورنمنٹ کھیل رہی ہوتی ہے۔ یہ سب چیزیں کھلاڑیوں کی توجہ میچ سے ہی ہٹا دیتی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں پر یہ سب ہوتا ہے۔ یہ حوصلے پست کر ڈالتا ہے اور مایوسی کا مرض لگاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجنگ ماحول، ہوٹلوں میں طویل قیام، ہندوستان میں ہجوم کے منفی ردعمل، شائقین اور سابق کرکٹرزکی تنقید کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے گراؤنڈ پر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی خراب ہوئی ہے۔ کرکٹ ماہرین نے کہا ہے کہ پی سی بی کا افغانستان کے ساتھ میچ کے بعد جاری ہونے والا بیان جس میں پاکستان ہارگیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ورلڈ کپ میں کارکردگی کے مطابق مستقبل کے اقدامات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا، اس بات کا اشارہ ہے کہ بورڈ نے بابر اعظم کو کپتانی کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔