بوسٹر شاٹس کے بجائے ویکسین کی سالانہ خوراک لگوانا زیادہ بہتر: فائزر

   

نیویارک : کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ویکسین بنانے والی امریکی کمپنی فائزر کے سربراہ نے کہا ہے کہ کثرت سے بوسٹر شاٹس لگوانے کے بجائے ویکسین کی سالانہ خوراک لگوانا زیادہ بہتر ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دواساز کمپنی فائزر کے سربراہ ایلبرٹ برلا نے ایک انٹرویو میں ایسی ویکسین کی تیاری سے متعلق امید کا اظہار کیا ہے جو سال میں ایک مرتبہ لگوانی پڑے گی۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا بوسٹر شاٹس ہر چار یا پانچ ماہ بعد باقاعدگی سے لگوانا پڑیں گے تو ایلبرٹ برلا نے کہا کہ یہ تو کوئی زیادہ اچھی صورتحال نہیں ہوگی لیکن ’مجھے امید ہے کہ ہمارے پاس ایسی ویکسین موجود ہوگی جو آپ کو سال میں ایک مرتبہ لگوانا پڑے گی۔‘انہوں نے کہا کہ سال میں ایک مرتبہ ویکسین لگوانے پر لوگوں کو آمادہ کرنا زیادہ آسان ہے۔خیال رہے کہ فائزر کی ویکسین شدید بیماری اور ہلاکتوں کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہے لیکن اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنے میں زیادہ کارآمد نہیں رہی۔کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر اکثر ممالک ویکسین کے بوسٹر شاٹس لگوانے پر زور دے رہے ہیں اور یا پھر ایک سے دوسرے شاٹ کے درمیان ضروری چند ماہ کے عرصہ کو مزید کم کر دیا ہے۔فائزر کے سربراہ ایلبرٹ برلا نے کہا کہ ایسی ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اومی کرون ویریئنٹ سمیت دیگر اقسام کے خلاف بھی مؤثر ہو۔