ویانا، 28 مارچ (یواین آئی) اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے کہا ہے کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حملہ ہوا ہے تاہم اس سے نہ تو تابکاری کا اخراج ہوا اور نہ ہی ری ایکٹر کو کوئی نقصان پہنچا۔بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی حکام نے اطلاع دی ہے کہ بوشہر پلانٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور اسے کسی قسم کا تکنیکی یا ساختی نقصان نہیں پہنچا۔ایجنسی کے مطابق گزشتہ دس دنوں کے دوران ایران میں مبینہ حملوں کے سلسلے میں یہ تیسرا واقعہ ہے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے وسطی ایران میں بھاری پانی کے ایک ری ایکٹر اور یورینیم پروسیسنگ پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے ، تاہم بوشہر پلانٹ کا ذکر نہیں کیا گیا۔آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے اس صورتحال کے پیش نظر تمام فریقوں سے “زیادہ سے زیادہ فوجی تحمل” اختیار کرنے پر زور دیا ہے ۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جمعہ کی رات 11 بج کر 40 منٹ پر ایک گولہ بوشہر پلانٹ کے احاطے میں گرا، جس کا الزام ایران نے “امریکی صیہونی دشمن” پر عائد کیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔واضح رہے کہ جنوب مغربی ایران میں واقع بوشہر پلانٹ ملک کا واحد فعال جوہری ری ایکٹر ہے ، جسے پہلی بار 2011 میں قومی بجلی کے نظام سے منسلک کیا گیا تھا۔
نیوکلیر ریڈی ایشن ہونے پر، پڑوسی ممالک پر ہولناک اثرات ؟
جوہری حادثہ کا خطرہ بڑھ گیا ، (آئی اے ای اے) کتنے ممالک زد میں آ سکتے ہیں؟ نیوکلیر تابکاری سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟
تہران۔ 28 مارچ (ایجنسیز) مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی تناؤ کے درمیان ایران میں نیوکلیئر ریڈی ایشن (نیوکلیر تابکاری) کے امکانات سے متعلق خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے گزشتہ روز کہا گیا تھا کہ ملک کی دو نیوکلیر تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں لیکن کوئی تابکار مواد خارج نہیں ہوا۔ ارنا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے شمال مغربی ایران میں واقع خونداب ہیوی واٹر کمپلیکس کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرا حملہ اردکان میں یورانیم افزودگی کی تنصیب پر کیا گیا جہاں حکام کے مطابق تابکار مادے کا اخراج تنصیب کی حدود سے باہر نہیں ہوا۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس خطہ میں مسلسل حملوں سے بڑے نیوکلیر حادثہ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک تابکاری کے اخراج کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن بدترین حالات میں ریڈیولاجیکل اخراج کے امکان سے مکمل طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ماہرین کے مطابق مغربی ہواؤں اور فضائی نظام کے موجودہ رجحانات کے باعث وسطی ایران کی تنصیبات سے تابکاری ہوتی ہے تو گرد اور ذرات 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر خلیجی ممالک ، اردن اور شام کے علاوہ پاکستان، افغانستان، عراق، ترکی اور قریبی علاقوں( ہندوستان،سر ی لنکا ) تک منتقل ہونے کا بھی خدشہ موجود ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کسی بھی طرح کی تابکاری کا اخراج ہوتا ہے، خصوصاً بوشہر جیسے ساحلی پلانٹ سے تو خلیجی خطہ کے کم از کم 6 سے 8 ممالک کو مختلف سطحوں کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کا اصل اثر ہوا کی سمت، سمندری لہروں اور نقصان کی شدت پر منحصر ہوگا۔سب سے زیادہ خطرہ ایران کے براہ راست پڑوسیوں اور خلیجی ممالک کو ہوگا کیونکہ وہ جغرافیائی طور پر قریب ہیں اور ماحولیاتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔کویت، قطر اور بحرین کو بڑی تشویش ہو سکتی ہے کیونکہ وہ پینے کے پانی کیلئے سمندری پانی کو صاف کرنے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹس پر کافی زیادہ منحصر ہیں۔متحدہ عرب امارات خاص طور پر خطرہ کی زد میں ہے کیونکہ اس کے پینے کے پانی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ ڈی سیلینیٹ کیے گئے سمندری پانی سے ہی آتا ہے۔ کسی بڑے اخراج کی صورت میں، موسم کی صورتحال کے لحاظ سے ہوا سے پھیلنے والی آلودگی چند ہی گھنٹوں میں سرحدوں کے پار بھی پھیل سکتی ہے۔اردن اور شام کو بھی خطے میں عدم استحکام اور اپنے علاقوں میں ’نیوکلیئر ریسرچ فیسیلٹیز‘ (نیوکلیر تحقیقی مراکز) ہونے کی وجہ سے بالواسطہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے پورے خطہ میں سیکوریٹی سے متعلق خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ ریڈی ایشن کے اچانک اخراج کی صورت میں حفاظت کا دارومدار اس سے کم سے کم رابطہ پر ہوتا ہے۔ سب سے ضروری قدم گھر کے اندر جانا ہے۔ اینٹوں یا کنکریٹ سے بنی عمارت کے اندر رہنا باہر رہنے کے مقابلے میں بہتر تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دروازے اور کھڑکیاں بند ہونی چاہئیں اور پنکھے یا ایئر کنڈیشنر جیسے وینٹی لیشن سسٹم جو باہر کی ہوا کھینچتے ہیں، انہیں بند کر دینا چاہیے۔تابکاری میلوں دور تک پھیلتی ہے۔ اس لیے زیادہ دور جانے کے بجائے جہاں ہیں وہیں اپنے لیے کوئی بند جگہ تلاش کریں۔ ایٹمی اثرات سے بچنے کیلئے بہترین پناہ گاہ زیر زمین ہوتی ہے، گہرائی میں تابکار شعاعیں کم سے کم پہنچ پاتی ہیں۔وقت اور فاصلہ کے اصول انتہائی اہم ہیں۔ تابکاری کے منبع سے جتنا دور رہا جائے اور اس کے قریب جتنا کم وقت گزارا جائے، خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔
کھانے اور پانی کی حفاظت بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو صرف سیل بند بوتل والا پانی اور ٹھیک سے پیک شدہ یا ڈبہ بند کھانا ہی استعمال کرنا چاہیے۔