بیجنگ : چینی کمپنی نے ملازمین کو بونس دینے کا منفرد طریقہ اپنایا ہے، جس کے باعث ورکرز مالا مال ہوگئے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی کمپنی نے بونس کے فیصلے کا اختیار ملازمین کے ہاتھوں میں دے دیا، میز پر 11 ملین ڈالر کے نوٹوں کے ڈھیر لگائے اور پندرہ منٹوں میں جو جتنا گن سکتا ہے اتنے نوٹ لے جائے۔ رپورٹس کے مطابق 15منٹ میں ہاتھوں کی تیزی دکھانے والے مالامال ہوگئے، سوشل میڈیا پرکمپنی کی سخاوت اور منفرد طریقہ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک چائنیز کمپنی نے حیرت انگیز اقدام اْٹھایا تھا، انسٹا 360 نامی ٹیکنالوجیکل کمپنی شینزین میں واقع ہے جس نے یہ نئی کمپنی متعارف کرائی ہے کہ کمپنی کا جو بھی ملازم ’ڈیٹ‘ پر جائے گا اسے کیش ریوارڈ سے نوازا جائے گا۔
کمپنی کے مطابق اس فلمی اقدام کا مقصد کام کی جگہ پر خوشی کے احساس کو بڑھانا اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے راہ دکھانا ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے بتایا کہ کمپنی چاہتی ہے کہ افرادی قوت کے درمیان روابط کام کی جگہ سے جڑے احساس کو بڑھایا جائے، کمپنی ایک ڈیٹنگ کے لیے اپنے ملازمین کو 66 یوآن یعنی تقریباً 770 ہندوستانی روپے ادا کررہی ہے۔