حیدرآباد۔7ستمبر(سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقہ بوڈ اپل میں چرچ کے پادری پر پولیس نے جہیزہراسانی ‘ عصمت ریزی‘ دھوکہ دہی کے علاوہ دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے پادری کو گرفتار کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ میڈ پلی پولیس میں درج کئے گئے اس مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق 35سالہ ایس ‘ چنا وینکٹیشورلو عرف جوزف نے 24 سالہ لڑکی کو شادی کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اس کا جنسی استحصال کیا ہے اور وہ 2020 سے شکایت کنندہ کا جنسی استحصال کررہا ہے اور جب کبھی پادری سے شادی کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ ٹال مٹول سے کام لیا کرتا تھا۔ بتایاجاتا ہے کہ جوزف نامی اس پادری کی پہلی شادی سندھیا نامی لڑکی سے 2010 میں ہوئی تھی اور اس جوڑے کو ایک لڑکی ہے لیکن 2015میں سندھیا کی ناسازیٔ صحت کے سبب موت واقع ہوگئی اور اس کے بعد جوزف نے ریبیکا نامی لڑکی سے شادی کرلی اور اس شادی سے پادری کو ایک لڑکا ہے لیکن لڑکے کی پیدائش کے بعد مسلسل ہراسانی سے تنگ آکر ریبیکا اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی ۔ریبیکا کے چلے جانے کے بعد جوزف نے متاثرہ لڑکی کو اجتماعات کے لئے مختلف چرچس کو لیجانے کا سلسلہ شروع کیا اور اس دوران اس نے لڑکی سے شادی کا وعدہ کرتے ہوئے جنسی تعلقات استوار کرلئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ جوزف کی دوسری بیوی ریبیکا نے میڈ پلی پولیس اسٹیشن پر پادری کے خلاف ہراسانی اور جہیز کے مطالبہ کے علاوہ دیگر سنگین الزامات کے ساتھ شکایت درج کروائی جس پر پولیس نے ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا اور دوران تحقیقات پولیس کو ایک اور شکایت موصول ہوئی جس میں جنسی استحصال کا شکار لڑکی نے پادری پر شادی کے نام پر کی جانے والی دھوکہ دہی اور دیگر الزامات عائد کئے ہیں۔M