بچوں کیلئے میگزین کی اشاعت اُردو اکیڈیمی کی ذمہ دار

   

مولانا محمد علی جوہر کامذاکرہ ، دانشوروں کا خطاب

حیدرآباد 22 ستمبر (پریس نوٹ) ہندوستان میں قائم تمام اُردو اکیڈیمیز کے زیراہتمام بچوں کے لئے ادبی میگزین کی اشاعت ضروری ہے۔ اُردو کی فری کلاسیس اور بچوں کے ادب پر خصوصی توجہ درکار ہے۔ اُردو ایک ہمہ گیر زبان، اس کے چاہنے والوں میں مختلف رنگ و نسل، مذاہب اور فرقوں اور زبانوں کے افراد شامل ہیں۔ آج بچوں کے ادب پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اُردو والوں کو اُردو کتابیں، اُردو اخبارات، رسائل و جرائد کو خرید کر پڑھنا اور تقاریب میں تحفتاً دینا چاہئے۔ سائبان اُردو ہال فتح دروازہ میں منعقدہ مولانا محمد علی جوہر اکیڈیمی کے ماہانہ مذاکرے میں ’’بچوں کا ادب ۔ ایک جائزہ‘‘ کے زیرعنوان اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر م ۔ ق ۔ سلیم نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر راہی جنرل سکریٹری مولانا محمد علی جوہر اکیڈیمی نے اپنے کلیدی نوٹ سے مذاکرے کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ آج ملک میں بچوں کے ادب پر بہت کم لکھا جارہا ہے۔ بچوں کے لئے بچوں کے ادب پر کام کرنے اور بچوں کے لئے ادبی مضامین اور مقصدی شاعری کی اشاعت بیحد ضروری ہے۔ آج اُردو اکیڈیمیز جلسوں، مشاعروں، سمیناروں اور کتابوں کی اشاعت پر بے دریغ روپیہ خرچ کررہی ہے۔ اصل مقصد پس منظر میں چلایا گیا ہے اور اُردو کے فروغ کے دعویدار اپنے غیر معقول اور مجہول فیصلوں سے اور کارکردگی سے تنازعات پیدا کرکے اُردو کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ ڈاکٹر ناظم علی اور جناب شفیع اقبال نے کہاکہ اُردو والوں کی اُردو سے بے اعتنائی تغافل اور تساہل اور اپنے بچوں کو انگریزی ذریعہ تعلیم کے مشنری عیسائی اسکولس میں داخلے نے بیحد نقصان پہنچایا۔ مذاکرہ کے بعد بزرگ سخنور جناب ضرر وصفی کی صدارت میں طرحی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ مشاعرے میں ضرر وصفی، ڈاکٹر فریدالدین صادق، جناب شفیع اقبال، ڈاکٹر راہی، علی بابا درپن، انجم شافعی، سید یوسف روش، صاحبزادہ باقر تحسین، سید رضا منظور، محترمہ روبینہ شبنم بختیار نے کلام سنایا۔