اولاد کی بہترین تربیت اقوام کی ترقی کا راز
روز نامہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کے زیر اہتمام اولاد کی تربیت پر ورکشاپ، برکت اللہ خاں کا خطاب
حیدرآباد۔/16ستمبر، ( سیاست نیوز) اقوام کی ترقی کا راز ان کے اپنے گھروں میں فراہم کی جانے والی تعلیم و تربیت میں پنہاں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ اور باپ کے ہاتھوں کو اسے آگے قدم بڑھانے کا سب سے بڑا ذریعہ کہا جاتا ہے۔ بچوں کا روشن مستقبل اور ان کی بہترین صحت کا راز بھی اولاد کے تئیں والدین کے رویہ میں پوشیدہ ہوتا ہے جبکہ والدین ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانوں کیلئے قدرت کا بہترین تحفہ ہے۔ ایسا تحفہ جو اپنی اولاد کی کردار سازی میں اہم رول ادا کرتے ہوئے ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے اور جہاں تک بچوں کی تربیت کا سوال ہے ان کے بہترین مستقبل کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے۔ انہیں اگر اچھی تربیت ملتی ہے تو معاشرہ کیلئے وہ اثاثہ ثابت ہوتے ہیں۔ تہذیب و تمدن کے گوہر نایاب سے وہ مزین ہوتے ہیں، چھوٹے بڑوں کا احترام، غریبوں، ضرورتمندوں، کمزوروں، مظلوموں، بیماروں کی مدد کا جذبہ ان میں پیدا ہوتا ہے اور بچوں میں مذکورہ خوبیاں پیدا کرنا ایک صبر آزما کام ہے۔ لیکن والدین کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رہیں۔ ہمارے دین اسلام میں بھی بار بار صبر اور صلوۃ یعنی نماز کی تاکید کی گئی ہے۔ ان زرین خیالات کا اظہار ممتاز دانشور جناب برکت اللہ خاں آئی ٹی اے امریکہ سرٹیفائیڈ ماسٹر ٹرینر بانی و ڈائرکٹر ٹائیلنٹ امپاورمنٹ سلیوشنس (TES) نے کیا جو سابق صدر جمہوریہ اور ہندوستان کے مرد مزائیل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام مرحوم کے شاگرد ہیں۔ وہ روز نامہ ’سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے جگر ہال ، دفتر سیاست میں ’’ بچوں کی تربیت ‘‘ کے زیر عنوان خطاب کررہے تھے۔ جناب برکت علی نے تقریباً دو گھنٹے 5 منٹ تک شرکاء و حاضرین ورکشاپ کو بچوں کی تربیت کے مختلف رازوں سے واقف کروایا۔ سارا جگر ہال شرکاء سے کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ اس موقع پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین، منیجنگ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب ظہیر الدین علی خاں، جناب سید حیدر علی ، ڈاکٹر ایم اے وحید، چیرمین روٹری کلب جناب محمد معین الدین، جناب احمد بشیر الدین فاروقی و دیگر موجود تھے۔ اس سمینار کو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں دنیا کے مختلف ملکوں میں لوگوں نے راست طور پر فیس بک اور سیاست ٹی وی چیانل پر بھی دیکھا اور سنا۔ جناب برکت اللہ خاں کا پاور پائنٹ کے ذریعہ پریزنٹیشن بھی شرکاء نے بڑی دلچسپی سے دیکھا۔ انہوں نے کورونا وباء کے باعث تعلیمی اداروں کے بند ہوجانے اور پھر آن لائن تعلیم، بچوں پر وباء کے منفی اثرات کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی اور والدین کو بتایا کہ کس طرح ان منفی اثرات سے اپنے بچوں کو باہر نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بچوں کی تربیت کو ایک آرٹ اور ایک سائنس قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بچوں کے ساتھ والدین کا رویہ کیسا ہونا چاہیئے، ان سے کس طرح کی گفتگو کی جانی چاہیئے، انہیں کیسے حوصلہ افزائی کے ذریعہ ان میں کچھ کرنے کی جستجو پیدا کی جانی چاہیئے، انہیں اطراف واکناف کے ماحول سے نمٹنے، دوست احباب و رشتہ داروں، مہمانوں، پڑوسیوں سے حسن سلوک کرنے کے قابل کیسے بنایا جانا چاہیئے اس بارے میں بھی خوبصورت انداز میں روشنی ڈالی۔ آج کل یہ دیکھا گیا ہے کہ 99.9% بچے موبائیل فونس پر گیمس کی لت میں مبتلاء ہوگئے ہیں۔ اس تعلق سے جناب برکت اللہ خاں کا کہنا تھا کہ ٹکنالوجی کے استعمال کا ایک طریقہ ہوتا ہے اس میں بے شمار اچھائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین ‘ بچوں کو موبائیل کے خراب یا بیجا استعمال سے روک سکتے ہیں۔ اس کیلئے خصوصی حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ بچوں کو یہ بتانا چاہیئے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو یہ بھی احساس دلائیں کہ ان کا پیار اندھا نہیں ہوتا بلکہ اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے، کوئی بھی ماں باپ اپنے بچوں کی صحت ، تعلیم و تربیت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ جناب برکت اللہ خاں کے مطابق ایک خوشگوار خاندان ایک خوشحال فیملی کیلئے یہ ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑ آئیں، واپس لائیں، ان کے ساتھ کم از کم ڈِنر پر موجود رہیں۔ مہینہ میں کم از کم ایک مرتبہ باہر جائیں۔ سیر و تفریح کریں، مہینہ میں ایک مرتبہ ’’ الیکٹرانک کا استعمال نہیں ‘‘ دن منائیں۔ اپنے بچوں پر حد سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ ہمیشہ ان کے ساتھ نرم لہجہ میں بات کریں اور صبر و تحمل کا مظاہر کرتے رہیں۔ انہیں ناپسندہ چیز کو برداشت کرنا اور پسند کی چیز کا انتظار کرنا ضرور سکھائیں۔