بچکندہ ۔ 6 جنوری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جکل اسمبلی حلقہ کے اقلیتی اقامتی اسکول بچکندہ میں ہفتہ کی رات ایک سنگین واقعہ پیش آیا، جہاں انٹرمیڈیٹ کے طلباء نے مبینہ طور پر ریگنگ کے دوران دسویں جماعت کے ایک طالب علم پر حملہ کیا، واقعہ نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی اور اسکول انتظامیہ کو فوری کارروائی پر مجبور ہونا پڑا۔ مارپیٹ کی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ ضلع حکام تک پہنچا۔ تفصیلات کے مطابق فرسٹ ایئر کے چار اور سیکنڈ ایئر کے چار طلباء نے دسویں جماعت کے طالب علم پر حملہ کیا، اسکول انتظامیہ نے واقعہ کی اطلاع ضلع حکام کو دی جس کے بعد پیر کے روز تحقیقات عمل میں آئیں۔ پرنسپل سوامی نے انٹرمیڈیٹ کے تمام 8 طلباء کے والدین کو طلب کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کی ہدایات کے مطابق انہیں ٹرانسفر سرٹیفکیٹ جاری کر کے اسکول سے خارج کردیا۔ انٹر طلباء سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ متاثرہ دسویں جماعت کا طالب علم مبینہ طور پر پانچویں اور چھٹی جماعت کے طلبہ کو ہراساں کر رہا تھا، اسی پس منظر میں انٹرمیڈیٹ کے طلباء نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ واقعہ کے بعد آر ایل سی بشیر نے کہا کہ دسویں جماعت کے طالب علم کی بھی علیحدہ تحقیقات کی جائیں گی۔ ضلع حکام نے پرنسپل سوامی کو دسویں جماعت طالب علم کے کردار کی جانچ کرتے ہوئے اندرون تین یوم تحقیقات کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ضلع انتظامیہ نے کہا کہ ہراسانی ثابت ہونے کی صورت میں اسے بھی اسکول سے خارج کیا جائے گا، انٹرمیڈیٹ کے طلباء کو ٹی سی دیئے جانے پر بعض ساتھی طلباء نے احتجاج کیا جس پر آر ایل سی بصیر،ویجیلنس افسران ایم اے حمید، احمد ضیاء نے طلباء کی کونسلنگ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی طالب علم پر حملہ کرنا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی اعلیٰ حکام کے واضح احکامات کے مطابق کی گئی ہے اور تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور طلباء کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
