رکن اسمبلی ہیمنت شنڈے کی کامیاب جدوجہد ، طلبہ و سرپرستوں میں خوشی کی لہر
بچکندہ۔ 29 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی جکل کے ٹی آر ایس رکن اسمبلی ہنمنت شنڈے کی کاوشوں اور جستجو سے بچکندہ میں اُردو میڈیم جونیر کالج کی منظوری عمل میں آئی۔ حلقہ اسمبلی جکل میں پانچ اردو میڈیم ہائی اسکول ہیں جس میں سالانہ ایس ایس سی میں سینکڑوں طلباء و طالبات تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایس ایس سی کے بعد جونیر کالج نہ ہونے کی وجہ سے کئی طلباء و طالبات ایس ایس سی کی تعلیم تک ہی محدود تھے۔ کئی طلباء و طالبات تعلیم کو ترک کررہے تھے۔ اس فکر کو محسوس کرتے ہوئے ہیمنت شنڈے نے ایک ماہ قبل سے ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی اور آئی پی ایس آفیسر احمد ندیم سے نمائندگی کررہے تھے۔ ان کی نمائندگی کو قبول کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ حکومت نے بچکندہ میں جونیر کالج کی منظوری دیتے ہوئے احکامات جاری کئے اور جی او بھی جاری کیا ہے۔ جونیر کالج کی منظوری ملنے پر ایم ایل اے ہنمنت شنڈے کو عوامی نمائندوں کی جانب سے مبارکبادی کا سلسلہ شروع ہے۔ حلقہ جکل میں جونیر کالج نہ ہونے کی وجہ سے کئی طلباء و طالبات انٹر کی تعلیم سے محروم ہورہے تھے۔ چنانچہ رکن اسمبلی نے گنگاجمنی تہذیب کی مثال پیش کی ہے۔ بچکندہ میں کالج کی منظوری ملنے پر حلقہ اسمبلی جکل کے طلباء و طالبات اور اولیاء طلبہ میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بچکندہ کے اقلیتی قائدین کا
چیف منسٹر سے اظہار ِ تشکر
بچکندہ ۔29 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جکل اسمبلی حلقہ کے بچکندہ منڈل مستقرپر اردو میڈیم جونیئر کالج کی منظوری عمل میں آئی۔جونیئر کالج کی منظوری اقلیتی قائدین کا دیرینہ خواب تھا اس کی تکمیل پر اقلیتی قائدین اور ٹی آر ایس پارٹی کارکنوں نے خوشی ومسرت کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راو، حلقہ ظہیرآباد رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل،جکل رکن اسمبلی ہنمنت شنڈے کی تصویر کو دودھ سے نہلایا۔حکومت نے امسال سے اردو میڈیم جونیئر کالج میں ایم پی سی، بی پی سی، سی ای سی، ایچ ای سی گروپس کی اجازت دینے پر چیف منسٹر کے سی آر، وزیر تعلیم مسز سبیتا اندرا ریڈی،ظہیرآباد رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل، جکل رکن اسمبلی ہنمنت شنڈے، بورڈ کمشنر سے اقلیتی قائدین نے اظہار تشکر کیا۔اس موقع پر ایم پی پی اشوک پٹیل، سابقہ ضلع سابقہ کوپشن ممبر اسعد علی، کوپشن ممبر جاوید، جکل سابقہ کوپشن ممبر کولاس انواراللہ،رام چندر، لکشمن، عبدالمقیت، ابرار علی، شیخ حسین کے علاوہ دیگر موجود تھے۔