ممبئی،22فروری (یو این آئی) ممبئی کے تاریخی وانکھیڈے اسٹیڈیم میں پیر کو ایسا مقابلہ ہونے جا رہا ہے جس نے کرکٹ مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے ۔ ایک طرف ٹورنامنٹ کی سب سے حیران کن ٹیم زمبابوے ہے جو ناقابل شکست رہتے ہوئے ’انڈر ڈاگ‘ کے طور پر ابھری ہے ، تو دوسری طرف ویسٹ انڈیز کے نامور پاور ہٹرز ہیں جو اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں۔زمبابوے نے اب تک نظم و ضبط اور بہترین ٹیم ورک کے ذریعے سب کو حیران کیا ہے ۔ ان کی بیٹنگ انفرادی اننگز کے بجائے مضبوط شراکت داریوں پر منحصر ہے ۔ ٹاپ آرڈر میں 120 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ٹیم کو ٹھوس آغاز فراہم کر رہے ہیں۔ کپتان اور آل راؤنڈر سکندر رضا ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہے ہیں، جو مڈل آرڈر کو استحکام بخشتے ہیں۔ بلیسنگ موزاربانی اور بریڈ ایوانز اپنی رفتار اور لینتھ میں تبدیلی کے ذریعے حریف بلے بازوں کو پریشان کر رہے ہیں، جبکہ ویلنگٹن مساکادزا اسپن کے شعبے میں کلیدی کردار ادا کریں گے ۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے روایتی ٹی 20فلسفے یعنی ’جارحانہ بیٹنگ‘ کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ شائی ہوپ 50 سے زائد کی اوسط کے ساتھ اننگز کو سنبھالنے کا کام کر رہے ہیں۔ روومین پاول، شمرون ہٹمائر اور شیرفین ردرفورڈ ڈیتھ اوورز میں رنز کی رفتار بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ شیمار جوزف کی برق رفتار گیند بازی اور جیسن ہولڈر کا تجربہ بولنگ لائن اپ کو متوازن بناتا ہے ۔ عقیل حسین اور گڈاکیش موتی مڈل اوورز میں رنز روکنے کے ماہر سمجھے جا رہے ہیں۔ وانکھیڈے کی پچ اپنی روایت کے برعکس اس بار کچھ سست روی کا شکار ہے ، جہاں پہلی اننگز کا اوسط اسکور 160 سے 170 کے درمیان دیکھا گیا ہے ۔ تاہم، پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم 190 تک کا ہدف بھی دے سکتی ہے ۔ ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دے گی۔ ویسٹ انڈیز کو اپنی بیٹنگ کی گہرائی اور ہندوستانی کنڈیشنز میں کھیلنے کے تجربے کے باعث معمولی برتری حاصل ہے ، لیکن زمبابوے کا اب تک کا ناقابلِ شکست سفر اس مقابلے کو آخری گیند تک سنسنی خیز بنا سکتا ہے ۔