بڑھتے ہوئے تنازعات سے بین الاقوامی قانون کو شدید خطرہ : ایمنیسٹی

   

نیویارک : عشروں کے دوران بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر وضع کردہ ضابطے تباہی کے دہانے پر ہیں۔ ان قوانین کی متعدد خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعہ ہیں۔ یہ بات ایمنیسٹی انٹر نیشنل کی سالانہ رپورٹ میں اجاگر کی گئی ہے۔ ایمنیسٹی کی سیکرٹری جنرل اگنیس کیلامانے وی او اے کو بتایا خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والے نہ صرف بین الاقوامی قانون سے انحراف کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے دفاع ، نیشنل سیکوریٹی ، یا انسداد دہشت گردی کے نام پر ان خلاف ورزیوں کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایمنیسٹی نے اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ کو اجاگر کیا۔ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اس تنازعہ میں اب تک 34 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں ، جن میں سے بیشتر عورتیں اور بچے تھے۔ اس تعداد میں حماس کے جنگجو شامل ہیں، جن کی تعداد کی غیر جانبدار طریقہ سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تنازعہ میں جو 2023 میں شروع ہوا اور جس میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے ، جنگی جرائم کے شواہد مسلسل بڑھ رہے ہیں جب کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں بین الاقوامی قانون کا مذاق اڑا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس اور دوسرے مسلح گروپوں کی جانب سے خوفناک حملوں کے بعد اسرائیلی حکام نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے گنجان آباد شہری علاقوں میں بے دریغ فضائی حملہ کیے اور اکثر اوقات پورے پورے خاندانوں کو ختم کردیا ، لگ بھگ 19 لاکھ فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا اور غزہ میں بڑھتے ہوئے قحط کے باوجود اشد ضروری اشیا کی رسائی محدود کر دی۔