باغی شیوسینا ارکان اسمبلی سے ایکناتھ شنڈے کا خطاب
گوہاٹی : شیوسینا کے باغی قائد ایکناتھ شنڈے نے کہا ہے کہ بڑی قومی جماعت نے پارٹی سے اُن کی بغاوت اور مہاراشٹرا کی مہا وکاس اگھاڑی کے خلاف موقف کی ستائش کی ہے۔ آسام کے دارالحکومت گوہاٹی کی ایک ہوٹل میں شیوسینا کے باغی ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ بڑی قومی جماعت نے اُن کے اِس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا اور ضرورت پڑنے پر ہرممکن تعاون کا تیقن بھی دیا ہے۔ ایک قومی جماعت جو سوپر پاور ہے نے اُن سے کہا ہے کہ جو بھی فیصلہ تم نے کیا ہے وہ تاریخی ہے اور وہ باغی قائدین کی جو بھی ضرورت ہوگی مدد کریں گے۔ تھانے سے تعلق رکھنے والے شیوسینا کے سینئر لیڈر ریاست میں ایم ایل سی الیکشن کے نتائج کے بعد سے رابطے میں نہیں تھے۔ بعد میں اچانک ہو گجرات کے سورت کی ایک ہوٹل میں ارکان اسمبلی کے ساتھ نمودار ہوئے اور ڈھائی سال سے جاری مہاراشٹرا کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو سیاسی بحران میں ڈھکیل دیا۔ ایکناتھ شنڈے اِس وقت باغی ارکان اسمبلی اور بعض آزاد ارکان اسمبلی کے ساتھ گوہاٹی میں ہیں۔ اُنھوں نے کل رات چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کے خطاب پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں شیوسینا چیف منسٹر ہونے کے باوجود پارٹی کے ارکان اسمبلی کو چیف منسٹر کی رہائش گاہ ورشا بنگلے تک جانے کا موقع نہیں تھا۔ چیف منسٹر کے آس پاس رہنے والے عام طور پر اُن سے ہماری ملاقات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے جس سے وہ اپنی توہین محسوس کرتے تھے۔ چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے دروازے گزشتہ دیڑھ سال سے ہمارے لئے بند تھے۔ چیف منسٹر سکریٹریٹ میں اکثر نہیں آتے اس کے بجائے وہ ٹھاکرے کی رہائش گاہ ماتوشری میں ہوتے۔