بھینسہ اور مواضعات میں بھی کئی کیسیس ، قبل از وقت ٹیکہ اندازی ضروری : وٹرنری ڈاکٹر
بھینسہ ۔21ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بڑے جانوروں میں لمپی اسکین بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ عوام میں زبردست بے چینی اور خوف کا ماحول دیکھا جارہا ہے بھینسہ پرائمری وٹرنری سنٹر ڈاکٹر جی وٹھل نے بتایا کہ مویشیوں بالخصوص بھینس ، گائے اور بیلوں میں لمپی اسکین بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس سے گائے شدید متاثر ہورہی ہے ، بھینسہ شہر میں تین اور قریبی مواضعات جن میں تماپور ، کامل اور بابل گاؤں میں کیسیس منظر پر آچکے ہیں اس ضمن میں آج موضع بابل گاؤں میں محکمہ وٹرنری کی جانب سے کیمپ منعقد کرتے ہوئے 300 بڑے جانوروں میں ٹیکہ اندازی کی گئی اور کل موضع تماپور میں کیمپ کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے انھوں نے مویشی پالن طبقے اور کسانوں سے اپیل کی ہیکہ جانوروں کی اس بیماری سے تشویش میں نہ آئیں بلکہ بھینسہ پرائمری وٹرنری سنٹر سے رجوع ہوکر متاثرہ جانوروں کی تین روز تشخیص کروائیں کیونکہ متاثرہ جانوروں کی صرف تشخیص کی جاسکتی ہے اور صحت مند جانوروں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کیلئے قبل از وقت ٹیکہ اندازی کرنا بے حد ضروری ہے جس کے لئے بڑے جانور کم از کم چار ماہ کا ہونا لازم ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بیماری کے آغاز میں بڑے جانوروں کے جسم پر چھالے نمودار ہورہے ہیں اور جانوروں کے پیروں پر سوجن رہتی ہے اور کچھ دنوں میں چھالے زخم میں تبدیل ہوتے ہیں یہ بیماری ایک جانور سے دوسرے جانور میں منتقل ہونے کی اصل وجہ متاثرہ جانوروں پر پرندوں کے بیٹھنے سے پھیلتی ہے ۔ لمپی اسکین بیماری سے صرف کمزور قوت مدافعت کے جانور ہلاک ہوتے ہیں انھوں نے کہا سال 2020 میں اس بیماری کا صرف بیل اور گائے ہی شکار تھے لیکن اس مرتبہ بھینس بھی اس شکار ہورہے ہیں انھوں نے عوام کو متوجہ کرواتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیماری سے متاثرہ جانوروں کے گوشت کا استعمال انسانی زندگی کے لئے بے حد خطرناک ہے اس لئے عوام متاثرہ جانوروں کے گوشت کا ہرگز استعمال نہ کریں واضح رہیکہ یہ بیماری بین ریاستی جن میں مہاراشٹرا ، چھتیس گڑھ و دیگر علاقوں کے جانوروں میں سب سے پہلے منظر پر آئی ہے تاحال بھینسہ میں بھی اس بیماری سے متاثرہ جانوروں کی تصدیق ہوچکی ہے۔