کرناٹک کی موجودہ صورتحال پر اظہار تشویش، گلبرگہ یونیورسٹی کیلئے فنڈز منظور کرنے ماہر قانون سبھاش راتھوڑ کا مطالبہ
گلبرگہ: صوفیائے کرام کے شیدائی و ماہرِ قانون مسٹر سبھاش راتھوڈ سابق رکن سنڈیکیٹ گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ نے ملک، بالخصوص ریاست کرناٹک کے موجودہ حالات پر گہری تشویش کے اظہار کے ساتھ صحیفہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و شانتی اور بھائی چارہ کی خوشگوار فضاء کو یقینی بنانے کے لئے آج صوفیائے کرام، سنتوں اور اللہ والوں کی تعلیمات کو عام کرنے کی شدید ضرورت ہے جن کے دروازے بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل تمام مذاہب کے ماننے والے انسانوں کے لئے آٹھوں پہر کھلے رہتے ہیں، انہوں نے اس خصوص میں انسانیت کے پیغام کو عام کرنے والے حضرت خواجہ بندہ نوازؒ اور شرن بسویشور کے شہر میں قائم گلبرگہ یونیورسٹی میں حضرت خواجہ بندہ نوازؒ اسٹڈی چئیر کی فوری منظوری اور اس کے لئے درکار ضروری فنڈز کے اجراء کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں سنڈیکیٹ باڈی گلبرگہ یونیورسٹی نے پروفیسر ای ٹی پٹیّا وائس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی کے دور میں منعقدہ ایک اہم اجلاس مورخہ 29/ مارچ 2011ء کو پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر سابق صدر ہشعبہء اردو و سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس گلبرگہ یونیورسٹی کی ایک جامع تجویز پر ریزولوشن نمبر 14 کے تحت حکومت کرناٹک سے درخواست کی تھی اور بعد ازاں 18/اکتوبر 2012ء کو سابق وزیراعلیٰ ریاست کرناٹک مسٹر جگدیش شیٹر کے دورہ ء گلبرگہ کے موقع پرمسٹر سبھاش راتھوڈ اور ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ نے وزیراعلیٰ سے اپنی شخصی ملاقات کے دوران مذکورہ تجویز پر مشتمل ایک یادداشت پیش کی تھی اور اس خصوص میں آج انہوں نے مزید پُر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صوفیائے کرام کی تعلیمات کو عام کرنے کی راہ استوار ہوگی اور آنے والی نسلیں نصاب کے حوالے سے صوفیائے کرام کی تعلیمات سے فیض یاب ہوں گی اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب و تمدن، بھائی چارہ اور اخوت کو بھی استحکام حاصل ہوگا. اس یادداشت پر دو سابق میئرس گلبرگہ جناب جی ایس رحمت اور ڈاکٹر اشفاق احمد چلبل کے علاوہ سینئر صحافی و مدیر ڈیجیٹل روز نامہ گھومتا آئینہ جناب چاند اکبر اور جناب محمد عبیداللہ کی دستخطیں بھی ثبت ہیں۔