ریاض: سعودی عرب کی اصالہ راجح الشیخی اپنی کم عمری کے باوجود اپنے بھائی کی جان بچانے اور اس کی بیماری کے مصائب کو ختم کرنے میں خود تکلیف سے گذری اور ایک بڑی قربانی دی۔طالبہ اصالہ راجح الشیخی کی والدہ فاطمہ حسن الشیخی نے اپنی بیٹی کی 21 سالہ بیمار بیٹے کی خدمت کی داستان سنائی۔ اصالہ کا بھائی سکیل سیل انیمیا اور تھیلیسیمیا میں مبتلا تھا۔فاطمہ الشیخی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں نشاندہی کی کہ مریض کے ٹشوز کو ملانے کے لیے خاندان کے بہت سے افراد کے ٹیسٹ لیے گئے۔ یہ ٹیسٹ کنگ فہد اسپیشلسٹ ہاسپٹل میں کیے گئے تھے۔مگر میچنگ صرف اس کی سب سے چھوٹی بیٹی کے ٹشوز کے ساتھ ہوئی۔ اس کے ٹشوز کے ساتھ صرف اصالہ” کے ٹشوز کا ملاپ ہوا۔ اس کے بعد اصالہ نے دو بار سرجری کروائی جس پر اسے کنگ عبدالعزیز ایوارڈ دیا گیا۔