ریاض ۔ سعودی نوجوان اپنے بیمار بھائی کی تکلیف برداشت نہ کرسکا اور بالآخر اپنا جگر عطیہ کرکے اسے شدید تکلیف سے نجات دلا دی۔ جگر کی پیوند کاری کا آپریشن کامیاب رہا۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ جلد ہی دونوں صحت یاب ہو جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ریاض میں مقیم سعودی نوجوان مفلح مشعی آل ثامر نامی نوجوان کا بھائی نایف مشعی کافی عرصے سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھا جس کی تکلیف میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔بھائی کی یہ تکلیف دیکھ کر مفلح نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا جنہوں نے انہیں بتایا کہ اس مرض کا واحد علاج جگرکی پیوند کاری ہے جس سے ممکن ہے کہ مرض ختم ہو جائے۔ نوجوان نے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے خودکو پیش کرتے ہوئے جگرکا عطیہ دینے کی رضا مندی ظاہر کی جس پر دونوں کا طبی معائنہ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیاجا سکے کہ جگر کی پیوند کاری کے لیے درکارخلیات مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ لیبارٹری ٹسٹ کی مثبت رپورٹ آنے پر آپریشن کردیا گیا۔ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ جگر کی پیوند کاری کا آپریشن کامیاب رہا، امید ہے کہ دو ماہ کے اندر دونوں بھائی صحت یاب ہو جائیں گے۔ میڈیکل ٹیم کے بموجب کہا ہے کہ جگر کا عطیہ دینے والے کے جگر کا وہ حصہ تیزی سے مندمل ہو جاتا ہے جس میں دو ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے جبکہ وہ شخص جس کے جگر میں پیوند کاری کی گئی ہے اسے صحت یاب ہونے میں نسبتاً زیادہ وقت لگتا ہے کیونکہ پیوند کاری کے بعد جگرکا وہ حصہ جو لگایا گیا ہے اس کے خلیات مردہ خلیات کی جگہ لیتے ہیں جس سے مریض صحت یاب ہوجاتا ہے۔