’بھارت بائیوٹیک‘ کا برازیل کی2کمپنیوں سے معاہدہ ختم

   

بدعنوانی کے الزامات کے درمیان ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کا فیصلہ
نئی دہلی: بدعنوانی کے الزامات کے درمیان بھارت بائیوٹیک نے برازیل کے شراکت داروں کے ساتھ کوویکسین کی فراہمی کے تعلق سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے یہ اطلاع دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوا ساز کمپنی بھارت بائیوٹیک نے کہا ہے کہ اس نے برازیل کے لئے اپنی کورونا ویکسین ’کوویکسین‘ کے لئے ’پریسیزا میڈیکامینٹوز‘ اور ’اینوکسیا فارماسیوٹیکلس‘ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو منسوخ کر دیا ہے۔برازیلی حکومت کے ساتھ 20 ملین (دو کروڑ) خوراکوں کی فراہمی کے حوالہ سے کئے گئے اس سودے پر بدعنوانی کے الزامات عائد ہو رہے ہیں اور اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پریسیزا میڈیکامینٹوز برازیل میں ہندوستان کی شراکت دار ہے جو ریگولیٹری سب مشن، لائسنس، ترسیل، بیمہ اور تیسرے مرحلہ کے لئے طبی آزمائش کرنے میں تعاون، رہنمائی اور حمایت دینے کا کام کرتی ہے۔بھارت بائیوٹیک نے کہا، ’’کمپنی نے یادداشت مفاہمت کو فوری اثر سے منسوخ کر دیا ہے۔ اس کے باوجود بھارت بائیوٹیک برازیل کا میڈیسن ریگولیٹری ادارہ ’انویزا‘ کے ساتھ کوویکسین کے لئے ریگولیٹری کی درخواست کے عمل کو پورا کرنے کے لئے شدت سے کام کرنا جاری رکھے گی۔بھارت بائیوٹیک نے کہا کہ ویکسین کی بین الاقوامی قیمت 15 تا20 امریکی ڈالر کے درمیان طے کی گئی ہے اور اس کے مطابق برازیل کو 15 امریکی ڈالر فی خوراک کی پیش کیش کی گئی تھی۔ کمپنی نے کہا کہ اسے کوئی پیشگی رقم حاصل نہیں ہوئی ہے اور نا ہی برازیل میں وزارت صحت کو ٹیکے کی فراہمی کی گئی ہے۔ویکسین تیار کرنے والی کمپنی بھارت بائیوٹیک نے کہا کہ اس کے تمام امور اس کے بین الاقوامی سودے سمیت، مقامی قوانین کے مطابق کئے جاتے ہیں اور کمپنی ہر وقت اخلاقیات، سالمیت اور تعمیل کے اعلیٰ ترین اقدام کو نافذ کرتی ہے اور ان پر عمل پیرا رہتی ہے۔