لکھنؤ: مرکزی حکومت کی جانب سے پاس کئے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے آج ‘بھارت بند’ کا ملا جلا اثر دکھا ئی دے رہا ہے ۔بند کا سماج وادی پارٹی، کانگریس، بہوجن سماج پارٹی، لوک دل سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں نے پہلے سے ہی حمایت کا اعلان کررکھا ہے ۔ راجدھانی لکھنؤ کے سبھی اہم بازار کھلے ہوئے ہیں۔ صبح تاجروں نے دوکانیں نہیں کھولی تھیں لیکن پختہ سیکورٹی کے انتظامات کو دیکھتے ہوئے سبھی نے دوکانیں کھول دیں۔ سڑکوں پر سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیاں دوڑتی نظر آرہی ہیں۔پولیس دستے لگاتار گشت کررہے ہیں۔بستی سے موصول اطلاع کے مطابق کارکنوں کے ساتھ احتجاج کررہے سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے لیڈر رام گوند چودھیر سمیت کئی افراد کو پولیس نے حراست میں لیا ہے ۔جی آر پی اور ریلوے سیکورٹی فورس کے جوانوں کے ریل لائن کے ارد گرد گشت کی وجہ سے بند کے حامی ٹرین کی آمدورفت میں کسی بھی قسم کی کوئی روکاوٹ نہیں ڈال سکے ۔ریاست کی سرحدوں سے منسلک دہلی۔یوپی سرحد پر اضافی پولیس ٹیم کو تعینات کیا گیا ہے ۔ پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کارکنوں نے قانون کے خلاف سر پر ٹوکری رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ ابھی تک کہیں سے بھی کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ پرامن احتجاجی مظاہرہ کرنے والے افراد کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے ۔