بھارت بند کا ملا جلا اثر ، دہلی کے بازار کھلے رہے

,

   

نئی دہلی :درج فہرست ذات – قبائل ریزرویشن کے زمرے میں کریمی لیئر نافذ کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منعقدہ ’بھارت بند‘کا چہارشنبہ کو ملا جلا اثر دیکھا گیا۔ قومی دارالحکومت این سی آر میں بند بے اثر رہا۔ دارالحکومت کے بازار کھلے رہے اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ دہلی کی مارکیٹ تنظیموں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اس بند کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کے چیئرمین برجیش گوئل نے کہا کہ کسی بھی احتجاجی تنظیموں نے بھارت بند کے حوالے سے دہلی کی مارکیٹ تنظیموں سے رابطہ نہیں کیا تھا، اس لیے دارالحکومت کے تمام 700 بازاروں کے ساتھ 56 صنعتی علاقوں میں سرگرمیاں معمول پر رہیں۔ اتر پردیش میں بھارت بند کا جزوی اثر نظر آیا، حالانکہ بند کے حامیوں نے جلوس نکال کر اورآئین بنانے والے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے جھنڈے اور بینر لہرا کر اپنے احتجاج کا اظہار کیا۔ بند کے دوران لکھنؤ، کانپور اور پریاگ راج سمیت بیشتر اضلاع میں دکانیں اور کاروباری ادارے وقت پر کھل گئے ، جبکہ سڑک اور ریل ٹریفک پر بند کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسکول اور کالج کھلے تھے اور سڑکوں پر بھیڑ عام دنوں کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔ مدھیہ پردیش میں ملک گیر بند کی اپیل کا جزوی اثر نظر آیا اور حالات مکمل طور پر پرسکون ہیں۔ مختلف اضلاع کی انتظامیہ نے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں اور کہیں سے کوئی ناخوشگوار خبر موصول نہیں ہوئی ہے ۔
ریاست کی راجدھانی بھوپال کے علاوہ گوالیار چمبل خطہ، وندھیا علاقہ، مالاوانچل، نیمار، مہا کوشل، بندیل کھنڈ خطہ میں بھی مکمل امن ہے ۔ تاہم بعض اضلاع اور قصبوں میں احتیاطی تدابیر کے طور پر دکانیں وغیرہ بند رہیں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے مقامی انتظامیہ کو میمورنڈم بھی پیش کیے ، جس میں ریزرویشن سے متعلق مسائل کے حوالے سے مختلف نکات بیان کیے گئے ہیں۔پنجاب میں بھارت بند بے اثر رہا، یہاں نواں شہر اور ابوہر میں بازار کھلے رہے ۔ جالندھر میں دلت تنظیموں نے احتجاج کیا۔ لدھیانہ، پٹیالہ، امرتسر، بھٹنڈہ اور ہوشیار پور جیسے بڑے شہروں میں بند کی کال بے اثر رہی، تاہم بند کے پیش نظر پنجاب کے کئی اضلاع کے اسکولوں اور کالجوں میں احتیاطی تدابیر کے طور پر تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ریاست بھر میں دکانیں معمول کے مطابق کھلی ہیں، سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔ کاروباری یونٹس اور بازار عام دنوں کی طرح کھلے ہیں۔ بس ٹریفک بھی معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔اسی طرح چنڈی گڑھ میں بھی حالات تقریباً معمول پر رہے ۔ بینکنگ خدمات اور تعلیمی اداروں اور کاروباری اداروں کا آپریشن معمول پر رہا۔ ریاست میں کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی خبر نہیں ہے ۔ ہنگامی طبی خدمات کو ناکہ بندی سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ پنجاب کے جالندھر اور ہوشیار پور اضلاع میں، کارکنوں کو احتجاج کی حمایت میں تاجروں سے اپنی دکانیں اور کاروباری ادارے بند رکھنے کو کہتے ہوئے دیکھا گیا۔ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بھارت بند کے دوران پولیس انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ پٹنہ میں پولیس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا، جب کہ مظاہرین نے آرا، دربھنگہ اور مدھوبنی میں ٹرینیں روک کر مظاہرہ کیا۔