بھارت جوڑو یاتراایم پی سے راجستھان میں داخل

,

   

اگرمالوا: راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا آج تیرہویں دن مدھیہ پردیش میں اگرمالوا ضلع سے راجستھان کے چنوالی میں داخل ہوگئی۔ریاستی کانگریس کے مطابق راہول گاندھی شام کو راجستھان میں داخل ہوے جہاں ’’جھنڈا سونپنے‘‘ کا عمل ہوا۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ہزاروں کارکنان موجود تھے۔راجستھان میں یاترا 18 دن رہے گی۔ اس دوران راجستھان میں کانگریس حکومت کے 4 سال بھی مکمل ہورہے ہیں۔ 17 ڈسمبر کو اشوک گہلوٹ نے چیف منسٹر کا حلف لیا تھا اور 17 ڈسمبر یاترا کا آرام کا دن ہے۔ کانگریس حکومت کے 4 سال کی تکمیل سے زیادہ یاترا پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ 19 ڈسمبر کو الوار ضلع کے مالاکھیڈا میں جلسہ عام ہوگا۔ اس سے قبل راہول گاندھی کی پیدل یاترا آج صبح اگرمالوا ضلع کے لالہ کھیڑی کے قریب اناپورنا ڈھابہ سے شروع ہوئی اور صبح تقریباً 10 بجے سویتکلا پہنچی۔ پیدل یاترا دوبارہ 3.30 بجے شروع ہوئی اور تقریباً 6.30 بجے ڈونگرگاؤں میں پیپلیشور بالاجی مندر کے قریب پہنچی۔ اس کے بعد یاترا کانگریس کی حکومت والی ریاست راجستھان میں داخل ہوگئی۔ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا تقریباً تین ماہ قبل کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی۔ یہ یاترا 23 نومبر کو برہان پور ضلع میں مدھیہ پردیش سے مہاراشٹرا میں داخل ہوئی تھی۔ اس کے بعد راہول گاندھی ان 13 دنوں میں برہان پور، کھنڈوا، کھرگون، اندور، اجین سے ہوتے ہوئے اگرمالوا ضلع پہنچے۔ راہول گاندھی کی یاترا کاجموں و کشمیر پہنچ کر اختتام عمل میں آئے گا۔ وہ اب تک دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر چکے ہیں۔ ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ، سینئر لیڈر ڈگ وجے سنگھ، جے رام رمیش، سابق مرکزی وزراء ارون یادو، جیتو پٹواری، کنال چودھری، وویک تنکھا، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر گووند سنگھ، جے وردھن سنگھ، سچن یادو اور درجنوں سینئر قائدین ، عہدیداران اور ہزاروں کارکنان مدھیہ پردیش میں یاترا کے ساتھ رہے اور عوام نے بھی شاندار جوش وخروش کا اظہار کیا۔ بعض فلمسٹارس بھی یاترا میں شامل ہوئے ۔