واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ 2021 میں بھارت میں اقلیتی برادریوں کے ارکان پر سال بھر حملے ہوئے، جن میں قتل اور دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ محکمہ خارجہ کے ‘فوگی باٹم’ ہیڈکوارٹر میں سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کی طرف سے جاری کی گئی، رپورٹ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورت حال اور خلاف ورزیوں پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتی ہے اور اس میں ہر ملک کے لیے الگ الگ باب درج ہیں۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سالانہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ کے اجراء کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ بھارت میں لوگوں کے ساتھ ساتھ مذہبی مقامات پر حملے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ امریکہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔ہم اسے انجام دینے کے لیے دیگر حکومتوں، کثیرالجہتی تنظیموں اور شہریوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔