بھارت کی جنگ آزادی مسلم مجاہدین کے خون سے بھری پڑی ہے

   


آج یہی قوم ملک میں اپنے تحفظ کیلئے فکرمند، محبوب نگر میں جلسہ، رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کا خطاب

محبوب نگر۔ سرزمین محبوب نگر پر آج کے جلسہ ’’جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کا رول‘‘ اس لئے منعقد نہیں کیا جارہا ہے کہ ہم اپنی وفاداری ظاہر کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا تذکرہ اور یاد کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔ ہم جنگ آزادی کی لڑائی میں پسینہ بہانے والوں کو جہاں یاد کرتے ہیں، وہیں انھیں بھی سلام کرتے ہیں جنھوں نے پھانسی کے پھندوں کو مسکراہٹ کے ساتھ قبول کیا اور خون بہایا۔ ان خیالات کا اظہار جناب اسدالدین اویسی رکن پارلیمان حیدرآباد نے محبوب نگر کے الماس فنکشن ہال میں مسلمانانِ محبوب نگر کی جانب سے منعقد کردہ جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اپنے اسلاف کے کارناموں کے صرف تذکرے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے بلکہ اپنے اندر احساسات اور جذبات کو پیدا کرنا ہوگا تاکہ ہم ملک کو مضبوط و مستحکم رکھ سکیں۔ انھوں نے ٹیپو سلطان شہیدؒ کی زندگی کے واقعات کا تفصیلی احاطہ کیا اور مسلمانوں بالخصوص مسلم نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ الیاس ندوی بھٹکلی کی ٹیپو سلطانؒ پر لکھی گئی کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔ یہ انگریزی میں بھی دستیاب ہے۔ انھوں نے ٹیپو سلطانؒ کی زندگی کے اہم واقعات پیش کئے اور کہا کہ ٹیپو نے صرف 17 برس کی عمر میں انگریزوں کے خلاف لڑائی کے لئے اُتر پڑے۔ ٹیپو نے اپنے والد حیدر علی سے نہ صرف علوم و فنون حاصل کئے بلکہ لڑائی کے میدان کے ایک زبردست سپہ سالار بھی تھے۔ وہ کئی زبانوں پر عبور بھی رکھتے تھے اور راکٹ و اسلحہ کے مؤجد بھی تھے۔ ٹیپو سلطانؒ کے خلاف نفرت پھیلانے والے عقل کے اندھے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ بھارت کی آئین کی جو پہلی کتاب شائع ہوئی، سردار پٹیل اُس وقت موجود تھے۔ اس کتاب میں بحیثیت ایک عظیم مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کی تصویر شائع ہوئی۔ بیرسٹر اویسی نے آج نام نہاد محب وطنوں سے سوال کیا کہ جنگ آزادی مسلمان مجاہدین کے خون سے بھری پڑی ہے، لیکن تم نے ملک کے لئے کیا کِیا؟ انھوں نے یاد دلایا کہ 1757ء کی پلاسی کی لڑائی جو سراج الدولہ نے لڑی تھی، بھول گئے؟ بکسر کی جنگ بھول گئے؟ آج ملک کی آزادی کے 75 سال کا جشن منایا جارہا ہے، لیکن مسلمان وہ واحد قوم ہے جو آج ملک میں اپنے تحفظ کے بارے میں فکرمند ہے۔ لال قلعہ سے وزیراعظم 75 سالہ جشن کے موقع پر خواتین کی آزادی اور احترام کی بات کرتے ہیں، تبھی خبر آئی کہ گجرات کی بلقیس بانو کے زانیوں کو عدالت نے بَری کردیا۔ کیا یہی خواتین کی عزت کا تحفظ ہے؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ 11 زانیوں کو آپ دوبارہ جیل بھجوائیں، ورنہ تاریخ میں آپ کو کس نام سے یاد کیا جائے گا؟ آخر میں انھوں نے مسلمان نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ ملک کا مستقبل ہیں، اپنے کردار کو بہتر بنانا ہوگا، جدوجہد آزادی میں ہمارے اکابرین کے رول سے واقف ہونا ہوگا۔ مساجد کو آباد اور علماء و بزرگوں سے ربط میں رہنا ہوگا، موبائل فونس کو چھوڑنا ہوگا۔ جابر بن سعید نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ تقی حسین تقی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا آل مصطفی قادری، سید عبدالرزاق شاہ قادری، سید غوث محی الدین صدر قاضی، مولانا حسن بیگ، مولانا نعیم کوثر رشادی، عبدالہادی ایڈوکیٹ، مولانا ثناء اللہ خان نے بھی مخاطب کیا۔ شہ نشین پر محمد امتیاز اسحٰق چیرمین ریاستی فینانس (مائناریٹی) کارپوریشن، خواجہ فیاض الدین انور پاشاہ، عبدالرحمن چیرمین اگریکلچر مارکٹ کمیٹی، عیسیٰ عمودی کنوینر جلسہ، عبدالاحد صدیقی، مقصود بن احمد ذاکر ایڈوکیٹ، سید سعادت اللہ حسینی، ابراہیم قادری، محمد جعفر و دیگر موجود تھے۔