’ بھاگیہ نگر ‘ کے نام سے ایک پارلیمانی حلقہ بنانے کی منصوبہ بندی

   

بی جے پی سرگرم ۔ حیدرآباد کا نام تبدیل کرنے میں ناکامی کے بعد نئی کوششوں کا آغاز
حیدرآباد 21 ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کے حلقہ جات پارلیمان میں ایک حلقہ کا نام ’بھاگیہ نگر‘ ہوگا۔ شہر حیدرآباد کے نام کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی اور مسلسل مطالبہ کے باوجود ناکامی کے بعد اب جو منصوبہ بندی کی جار ہی ہے اس کے مطابق پارلیمانی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے دوران بی جے پی کی جانب سے حیدرآباد سے متصل کسی حلقہ پارلیمان کا نام ’بھاگیہ نگر‘ رکھنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ حلقہ پارلیمان کے نام رکھنے کا اختیار حلقہ بندی کمیشن کو ہوتا ہے اور وہ سیاسی جماعتوں اور عوام کی رائے حاصل کرکے حلقوں کے نام کو قطعیت دیتے ہیں۔گذشتہ میں ہوئی حد بندی کے دوران جس طرح سے نئے ناموں سے موسوم حلقہ جات پارلیمان اور حلقہ جات اسمبلی کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی اسی طرح 2026 تک جو حلقہ جات اسمبلی و پارلیمان کی حدبندی ہوگی اس میں بی جے پی کی جانب سے حلقہ پارلیمان ’بھاگیہ نگر‘ کے علاوہ بعض حلقہ جات اسمبلی کے ناموں کی تبدیلی کی بھی منصوبہ بندی کا آغاز کیا جاچکا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے بعض حلقہ جات اسمبلی و پارلیمان کو محفوظ کروانے بھی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں جن حلقہ جات پارلیمان واسمبلی پر از سر نو حد بندی کا اثر ہوگا ان میں گریٹر حیدرآباد کے حدود کے حلقہ جات شامل ہیں اس کے علاوہ شہر کے نواحی علاقوں میں موجود بعض حلقہ جات اسمبلی جہاں ووٹرس کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ان کی بھی تقسیم عمل میں لائی جائے گی اور اس سلسلہ میں بی جے پی ووٹر لرسٹ اور حلقہ جات اسمبلی کے حدود کے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے کمیشن کو تجاویز پیش کرنے کی تیاریوں کا آغاز کرچکی ہے۔جبکہ ابھی حلقہ ؎جات اسمبلی وپارلیمان کی ازسر نو حد بندی کے سلسلہ میں کمیشن کی تشکیل کے اقدامات کا بھی آغاز نہیں ہوا ہے ۔