بھدرادری میں 24 گھنٹوں میں 35.1سنٹی میٹر بارش‘ مختلف مقامات پر 8 افراد ہلاک

   


115سال میں ماہ ستمبر کی تیسری سب سے زیادہ بارش ، کئی بریجس ٹوٹ گئے ، سینکڑو ں ایکڑ اراضی محصور ، سڑکیں جھیل میں تبدیل ، کئی پراجکٹس کے گیٹس کھول دیئے گئے
حیدرآباد ۔ 12ستمبر ( سیاست نیوز) ریاست کے مختلف اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ ضلع بھدرا دری میں 115 سال کی تیسری بڑی بارش 35.1 سنٹی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے ۔ بارش کی وجہ سے 8 افراد ہلاک ہوگئے اور بجلی گرنے سے سینکڑوں کی تعداد میں گائیں ، بھیڑ بکریاں ہلاک ہوگئی ۔ کئی بریجس کو نقصان پہنچا ہے جس سے کئی گاؤں زیرآب آگئے ہیں ۔ سڑکیں جھیل میں تبدیل ہوگئی ہیں اور کئی پراجکٹس لبریز ہوگئے ۔ ساتھ ہی کئی پراجکٹس کے گیٹس کھول دیئے گئے ۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط فصلیں بھی زیرآب آگئی ہیں ، سب سے زیادہ ضلع بھدرادری کے الہ پلی میں 35.1 سنٹی میٹر ضلع راجنا سرسلہ کے اونور میں 20.8 سنٹی میٹر ،مرتنا پیٹ میں 20.3 سنٹی میٹر ، یلاریڈی پیٹ میں 19.3 سنٹی میٹر ، ضلع میدک کے الہ درگ میں 18 سنٹی میٹر ، ٹیکمال میں 17.9 ، کولچارم میں 17.6 سنٹی میٹر ۔ ضلع کریم نگر کے چریگو مامڈی میں 16.9 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔ گذشتہ کئی دہوں میں ستمبر کے دوران سب سے زیادہ 24 گھنٹوں میں 35.1 سنٹی میٹر بارش پہلی مرتبہ ہوئی ۔ اس سے قبل 18 ستمبر2019ء کو 21.8 سنٹی میٹر بارش ہوئی تھی ۔ تلنگانہ میں 1908ء میں ستمبر کے دوران 24 گھنٹوں میں 17جون 1996ء کو ضلع کھمم کے کوپاڈ میں 67.5 سنٹی میٹر بارش ہوئی تھی ۔ 6 اکٹوبر 1983ء کو ضلع نظام آباد میں 35.5 سنٹی میٹر بارش ہوئی ہے ۔ زوردار بارش سے کئی اضلاع میں ندیاں اور تالاب لبریز ہوکر بہہ رہے ہیں جس سے کئی گاؤں کا عام زندگی سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے اور آمد و رفت کا سلسلہ بند ہوگیا ہے ۔ سینکڑوں ایکڑ اراضی پر فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں ۔ ضلع سرسلہ میں ایک کار نہر میں ڈوب جانے کے حادثہ میں دادی اور پوترا دونوں ہلاک ہوگئے ۔ ضلع کریم نگر کے گوپال ڈیم میں ایک شخص کی نعش دستیاب ہوئی ۔ اسی ضلع کے ایک کنال میں ایک شخص غرقاب ہوگیا ۔ ضلع نرمل میں ایک ٹاٹا ایس گاڑی پر درخت گرنے سے دو افراد مقام حادثہ پر ہلاک ہوگئے اور ایک شخص شدید زخمی ہوگیا ۔ اس کو علاج کیلئے نظام آباد ہاسپٹل کو منتقل کیا گیا ۔ ضلع کاماریڈی کے گنگا اماں ندی میں کار کے بہہ جانے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ۔ ضلع سرسلہ میں دھواں دھار بارش سے ندیاں اور تالاب لبریز ہوکر بہہ رہی ہیں ۔ وینکم پیٹ ، اشوک نگر ، اننت نگر ، سنجیویا نگر ، شانتی نگر اور سری نگر کالونی میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ۔ قدیم بس اسٹانڈ تا کتہ چیرو تک کئی کلومیٹر سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ۔ ضلع منچریال کے چنور میں واقع بتکماں ندی پر تعمیر کردہ بریج کا اپروچ روڈ پانی میں بہہ گیا جس کی وجہ سے قومی شاہراہ 63 سے مہاراشٹرا کے سرونچا جانے والی تمام گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہوگئی ۔ ویملواڑہ کے قریب ایک تالاب سے مقامی عوام نے نامعلوم شخص کی نعش برآمد کی ۔ اضلاع سرسلہ ، جگتیال اور کریم نگر میں بارش کی وجہ سے سڑکوں کو بھاری نقصان پہنچا اور نشیبی علاقوں کے مکانات میں پانی داخل ہوگیا ۔ سنگارینی میں کوئلہ کی پیداوار رک گئی ۔ متحدہ ضلع نظام آباد میں بھی بارش سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔ بودھن منڈل کے سالور کے پاس قدیم بریج سے مانجرا کا پانی بہنے سے مہاراشٹرا کو جانے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا ۔ مکلور منڈل کے مانک بنڈار کے قومی شاہراہ پر پانی جمع ہوجانے سے نظام آباد ۔ حیدرآباد جانے والی سڑک پانی میں ڈوب گئی جس سے گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی گئی ۔ ضلع کمرم بھیم کے تریالی منڈل میں بجلی گرنے سے 200 بھیڑ بکریاں ہلاک ہوگئی ۔ دریائے کرشنا کے طاس اور اوپری حصہ میں ہونے والی بارش سے ناگر جنا ساگر میں 4.38 لاکھ کیوسکس پانی کا انفلو ہے ۔عہدیدار چوکسی اختیار کرکے پراجکٹ کے 22 گیٹس کھول کر 3.48 لاکھ کیوسکس پانی کا اخراج کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ سری سیلم پراجکٹ کے 10 گیٹس کھول کر پانی جاری کیا جارہا ہے ۔ سری رام ساگر پراجکٹ کے 12 گیٹس کھول دیئے گئے ہیں ۔ ن