35 منڈلوں میں بے ضابطگیاں، عوام کو ہراساں کرنے کا ہریش راؤ نے الزام عائد کیا
حیدرآباد ۔ 28 فبروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر بھوبھارتی کے نام پر بڑے پیمانے پر اراضی گھوٹالے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت ممنوعہ اراضی کی فہرست میں اضافہ کرکے ناجائز وصولیاں کررہی ہے اور اس کے بعدازاں اراضیات ممنوعہ فہرست سے نکال رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قیمتی اراضی کو جان بوجھ کر ممنوعہ فہرست میں شامل کیا جارہا ہے اور اس عمل کے ذریعہ بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں کی جارہی ہیں۔ یہ سارا مبینہ گھوٹالہ 35 منڈلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ بھوبھارتی پورٹل پر آپریٹرز کو ترمیم کا اختیار کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ معصوم کسانوں کو نوٹس دے کر ہراساں کیا جارہا ہے اور اس طرح حکومت نے ایس سی، ایس ٹی طبقات کی ایک لاکھ ایکر اراضی حاصل کی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حق کی آواز اٹھانے والی بی آر ایس کے قائدین کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کئے جارہے ہیں اور تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹیز تشکیل دی جارہی ہیں۔ اس کے بجائے حکومت ان اراضی گھوٹالوں کے ایس آئی ٹی اور سی آئی ڈی سے تحقیقات کرائے۔ ہریش راؤ نے قاضی پیٹ میں زیرتعمیر ریلوے منصوبے پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ یہ واضح نہیں کہا جارہا ہیکہ وہاں کوچ فیکٹری بن رہی ہے یا ویاگن فیکٹری۔ اگر یہ ریلوے کوچ فیکٹری ہے تو مرکزی حکومت فوری طور پر گزٹ نوٹیفکیشن جاری کریں۔2