اراضی تنازعات کی شفافیت سے یکسوئی،4 منڈلوں میں پائیلٹ پراجکٹ پر عمل آوری جاری
حیدرآباد۔/29 اپریل ، ( سیاست نیوز) وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ حکومت نے اراضی معاملات میں بے قاعدگیوں کو دور کرنے اور شفافیت پیدا کرنے کیلئے دھرانی پورٹل کی جگہ بھوبھارتی قانون نافذ کیا ہے۔ ریاست بھر میں 2 جون سے بھوبھارتی پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ وزیر مال نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے نتیجہ میں کسانوں اور خواتین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آباء و اجداد کی جانب سے بطور وراثت رکھی گئی اراضی سے کئی خاندان محروم ہوگئے۔ دھرانی پورٹل کے نام پر کئی کسانوں کو اراضی کے حق سے محروم کردیا گیا۔ ملک کی 18 ریاستوں میں موجود ریوینیو قوانین کا جائزہ لینے اور ماہرین سے مشاورت کے بعد بھوبھارتی قانون تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت اراضی معاملہ میں درخواست داخل کرنے پر عہدیدار درخواست گذار کے گھر پہنچ کر جانچ کریں گے۔ پائیلٹ پراجکٹ کے طور پر 4 منڈلوں کا انتخاب کیا گیا جہاں پر بھوبھارتی پر عمل آوری شروع ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 جون سے ریاست بھر میں قانون پر عمل آوری کا آغاز ہوگا اور اس سلسلہ میں درکار سسٹم تیار کرلیا جائے گا۔ وزیر مال نے کہا کہ نئے قانون کے تحت عہدیدار درخواست گذاروں سے رجوع ہوتے ہوئے اُن کے مسائل کی یکسوئی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر یس دور حکومت میں غریبوں کو اراضیات سے محروم کیا گیا تھا۔ اراضی تنازعات کے حل میں سابق بی آر ایس حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس غریبوں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا اظہار کررہی ہے جبکہ اسے حقیقت میں کوئی ہمدردی نہیں۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ بھوبھارتی قانون ملک کیلئے رول ماڈل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چار منڈلوں میں 2 جون تک پائیلٹ پراجکٹ کی تکمیل کرلی جائے گی۔ وزیر مال نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ دیہی سطح پر بھوبھارتی قانون کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کریں تاکہ اراضی تنازعات کی باآسانی یکسوئی ہوسکے۔1