23 لاکھ نقد رقم ۔ یو اے ای کی کرنسی اور ونٹیج کاروں کی دستیابی ۔ تحقیقات میں تیزی
حیدرآباد۔ 29 اپریل (سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے 28 اپریل کو پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں بھودان اراضی اسکام کے سلسلے میں دھاوے کئے گئے تھے ۔ اس کارروائی میں کئی قیمتی ونٹیج کاروں، نقد رقومات اور بیرونی کرنسی ضبط کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع رنگاریڈی ناگارام ویلیج، مہیشورم منڈل کے سروے نمبر 181 ، 182 ، 194، 195 میں قدیرالنساء نامی خاتون نے 103 ایکڑ اراضی کو جعل سازی کے ذریعہ ریوینیو ریکارڈس سے چھیڑ چھاڑ کرکے اپنے نام پر منتقل کروالیا۔ بعد میں اراضی کو کئی دلالوں اور سرکاری حکام کی مدد سے ریوینیو ریکارڈس کو تبدیل کرکے خانگی افراد کو فروخت کردیا گیا تھا۔ یہ کارروائی ای ڈی کی جانب سے اس وقت کی گئی جب تلنگانہ ہائیکورٹ نے بھودان اراضی اسکام کی سماعت کے دوران آئی اے ایس اور آئی پی ایس آفیسروں کی سرزنش کرکے نوٹس جاری کی تھی۔ پیر کو صبح ای ڈی ٹیموں نے سی آر پی ایف دستوں کی مدد سے قدیرالنساء کے مکان، محمد منور خان کے فارم ہاؤز، محمد عبدالطیف شرفن ، محمد اختر شرفن کے مکان اور محمد شکور کے گھروں کی بھی تلاشی لی۔ اس کارروائی میں بھودان اسکام سے متعلق خرید و فروخت کے دستاویزات، 23 لاکھ ہندوستانی کرنسی، 12 ہزار یو اے ای درہم و 45 قیمتی وِنٹیج کاروں کو بھی ضبط کرلیا گیا ۔ ای ڈی نے بھودان اراضی اسکام میں منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ پولیس نے حالیہ دنوں بعض سرکاری حکام اور خانگی افراد کے خلاف جعل سازی اور دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ درخواست گزار نے سنٹرل ویجلنس کمیشن کو بھی شکایت درج کرائی تھی جبکہ تلنگانہ چیف منسٹر کے دفتر میں داخل کی گئی شکایت پر کارروائی پر پرنسپل سیکریٹری ہوم کو مزید کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے تلنگانہ ہائیکورٹ میں داخل رِٹ درخواست میں بتایا کہ مذکورہ اراضیات بھودان بورڈ کے تحت ہے جو تلنگانہ بھودان اور گرام دان ایکٹ 1955 کے تحت ریوینیو ریکارڈ میں درج ہے۔ ان اراضیات کو غیرمجاز طور پر مجرمانہ سازش کے تحت خانگی افراد اور بعض سرکاری عہدیداروں کے نام پر منتقل کردیا گیا۔ ب