بھودان اراضی معاملہ ‘سنگل جج کے فیصلہ کے خلاف آئی پی ایس عہدیدار ہائی کورٹ سے رجوع

   

سنگل جج نے اراضی کا جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی

حیدرآباد۔/29 اپریل، ( سیاست نیوز) حیدرآباد کے مضافات مہیشورم میں بھودان اراضی میں مبینہ بے قاعدگیوں کے مسئلہ پر جاری تحقیقات کے دوران بعض آئی پی ایس عہدیدار ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ ہائی کورٹ نے 24 اپریل کو اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے 27 عہدیداروں کی اراضیات کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس بھاسکر ریڈی پر مشتمل سنگل بنچ نے یہ احکامات جاری کئے تھے۔ سنگل جج کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے بعض آئی پی ایس عہدیداروں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ مہیش بھاگوت، سواتی لکرا اور سومیا مشرا اُن عہدیداروں میں شامل ہیں جنہوں نے سنگل جج کے احکامات کو چیلنج کیا ہے۔ مہیشورم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے بھودان اراضی میں بے قاعدگیوں کی شکایت کی۔ درخواست گذار نے سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ جانچ کی اپیل کی۔ جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے 24 اپریل کو اس معاملہ کی سماعت کی تھی۔ فریقین کی سماعت کے بعد ناگارم کے سروے نمبر 181، 182 ، 194 اور 195 کے تحت موجود اراضی کو بھودان اراضی تسلیم کیا گیا۔ درخواست گذار نے شکایت کی کہ عہدیداروں کے نام پر اراضی کی منتقلی کے سلسلہ میں بھودان ٹرسٹ سے شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ہائی کورٹ نے مذکورہ اراضی کا جوں کا توں موقف برقراررکھنے کی ہدایت دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ اراضی کئی سینئر آئی اے ایس عہدیداروں نے حاصل کی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے اس معاملہ کی جانچ جاری ہے اور کئی اراضی بروکرس کے مکانات پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے دھاوا کرتے ہوئے دستاویزات کو ضبط کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 27 اعلیٰ عہدیداروں نے یہ اراضی حاصل کی ہے۔ حالیہ عرصہ میں یہ اراضی تنازعہ کا شکار اُسوقت ہوئی جب عدالت میں شکایت کی گئی کہ بعض آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں نے فرضی ناموں پر اراضی کا رجسٹریشن کیا ہے۔ عہدیداروں کے گھر والوں کے نام پر اراضی منتقل کی گئی۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو نوٹس جاری کی۔ تین آئی پی ایس عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ضروری امور کی تکمیل اور قانونی طور پر یہ اراضی حاصل کی ہے۔1