بھودان اراضی معاملہ میں آئی پی ایس عہدیداروں کو ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں

   

سنگل جج سے دوبارہ رجوع ہونے ڈیویژن بنچ کی ہدایت، اراضی کو ممنوعہ فہرست سے خارج کرنے کی درخواست
حیدرآباد۔/30 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے بھودان اراضی معاملہ میں سنگل جج کے احکامات میں کسی بھی مداخلت سے انکار کیا اور آئی پی ایس عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ حکم التواء کی برخاستگی کیلئے سنگل جج سے رجوع ہوں۔ بھودان اراضی کے معاملہ میں سنگل جج جسٹس بھاسکر ریڈی نے جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی جس کے خلاف آئی پی ایس عہدیداروں روی گپتا، مہیش بھاگوت، شیکھا گوئل، سومیا مشرا، ترون جوشی اور راہول ہیگڈے ڈیویژن بنچ سے رجوع ہوئے تھے۔ سنگل جج نے بھودان اراضی کو ممنوعہ اراضی کی فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ رنگاریڈی ضلع کے مہیشورم منڈل کے ناگارم موضع میں سروے نمبر 194 کے تحت اراضی کئی آئی پی ایس عہدیداروں نے خریدی ہے۔ مقامی افراد نے اسے بھودان اراضی قرار دیا جو بھودان یگنا بورڈکی ہے۔ درخواست گذار نے اراضی کی فروخت میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایت کی۔ جسٹس بھاسکر ریڈی نے 27 عہدیداروں کی جانب سے بھودان اراضی کے خریدی معاملہ پر فیصلہ سناتے ہوئے اراضی کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ سنگل جج کے فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی آج کارگذار چیف جسٹس سوجئے پال کے اجلاس پر سماعت ہوئی۔ انہوں نے اس مسئلہ میں مزید کسی مداخلت کے بجائے آئی پی ایس عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ سنگل جج سے رجوع ہوکر اپنا مدعا پیش کریں۔ ہائی کورٹ سنگل جج نے 24 اپریل کو ہدایت دی تھی کہ 27 اپریل سے اراضی کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا جائے۔ ڈیویژن بنچ نے آئی پی ایس عہدیداروں کو کوئی راحت نہیں دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ناگارم موضع کے سروے نمبرات 181 ، 182 ، 194 اور 195 کے تحت موجود بھودان اراضی کو بے قاعدگیوں کے ذریعہ فروخت کیا گیا اور کئی سینئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں نے اسے خریدا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے اس معاملہ کی جانچ کی جارہی ہے اور گذشتہ دنوں شہر میں کئی مقامات پر ای ڈی عہدیداروں نے دھاوے کئے۔1