بھونگیر شاہراہ پر قیمتی وقف جائیداد کا تحفظ ، عیدگاہ کا سنگ بنیاد

   

تمام رجسٹریشن منسوخ ، محمد محمود علی وزیر داخلہ اور چیرمین بورڈ مسیح اللہ کا خطاب
حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) بھونگیر شاہراہ پر موجود انتہائی قیمتی وقف جائیداد کا تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے قبضہ حاصل کرتے ہوئے 3.5ایکڑ موقوفہ اراضی پر عیدگاہ کا سنگ بنیاد رکھا دیا ۔ وقف بورڈ میں درگاہ حضرت راجہ باگ سوارؒ کے تحت سروے نمبر902 میں موجود اس اراضی پر 1997 سے جاری قبضہ جات کو برخواست کرواتے ہوئے تمام رجسٹریشن کو جو غیر مجاز طریقہ سے کروائے گئے تھے منسوخ کروادیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی نے آج صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کے علاوہ دیگر مقامی سیاستدانوں کی موجودگی میں عید گاہ کا سنگ بنیاد رکھا۔انتہائی قیمتی اس موقوفہ اراضی کے تحفظ کے لئے جاری کوششوں کے دوران محکمہ رجسٹریشن میں قابضین کی جانب سے داخل کئے گئے دستاویزات کی تنسیخ کے بعد حاصل کی گئی اس وسیع و عریض اراضی کے حصول کے بعد منعقدہ عیدگاہ کی سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے عہد کی پابند ہے۔ انہو ںنے اپنے خطاب کے دوران وقف بورڈ کی جانب سے اس جائیداد پر قبضوں کی برخواستگی اور جائیدادکے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ہوتی ہیں اور اس میں خیانت کرنے والوں کی دنیا اورآخرت میں رسوائی یقینی ہے۔ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ 3.5ایکڑ اراضی پر محیط اس عیدگاہ کو ترقی دینے اور اس کی حصار بندی کے لئے ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ وقف بورڈ نے مذکورہ اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں دباؤ کو قبول نہ کرتے ہوئے مکمل دیانتداری کے ساتھ بھونگیر شاہراہ پر ضلع یدادری میں لب سڑک واقع اس قیمتی اراضی کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ اوقافی جائیدادو ںکے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ ان جائیدادو ںکو استعمال میں رکھا جائے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ حکومت کے تعاون سے وقف بورڈ کو اس جائیداد کے رجسٹریشن کو منسوخ کروانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحی کے موقع پراس عیدگاہ میں نماز عید کی ادائیگی کے انتظامات کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ بھونگیر شاہراہ پر موجود اس اراضی کے متعلق مقدمات میں وقف بورڈ نے محنت اور جستجو کے ساتھ مؤثر پیروی کو یقینی بنایا۔ اس تقریب میں مقامی بھارت راشٹرسمیتی قائدین کے علاوہ سرکردہ مسلم شخصیات موجود تھیں۔م