بھوک کو فلسطینیوں کی نسل کُشی کیلئے جنگی ہتھیار بنانے پر اسرائیلمیں مخالفت

   

تل ابیب، 24 جولائی (یو این آئی) بھوک کو فلسطینیوں کی نسل کُشی کے لیے جنگی ہتھیار بنانے پر اسرائیل کے اندر سے آوازیں اُٹھنے لگیں۔غزہ میں قحط کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے ، اسرائیلی فوج کی مستقل ناکہ بندی کے باعث مصر سرحد پر کھڑے امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی جس کے باعث فلسطینی ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں۔چہارشنبہ کو اسرائیلی فوج کی بربریت پر تل ابیب میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق آٹے کے تھیلے اور فاقہ کش فلسطینی بچوں کی تصاویر اُٹھائے اسرائیلی مظاہرین نے غزہ میں امداد کی فوری فراہمی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ نیویارک میں بھی غزہ کے لوگوں کو بھوکا رکھنے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا اور غزہ میں غذا کا بحران ختم کرنے اور ٹرمپ حکومت سے اسرائیل کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں مظاہرین نے اسرائیل کی بھوک پالیسی کو جنگی اور انسانی جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز غزہ میں غذائی قلت سے مزید 4 بچوں سمیت 15 فلسطینی انتقال کرگئے ۔جس کے بعد بھوک اور غذائی قلت سے انتقال کرجانے والوں کی تعداد اب 101 ہوگئی ہے ۔فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے غزہ میں صورتحال تباہ کُن ہے ، ہر فرد بھوک کا شکار ہے ۔اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی اونروا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں 10 لاکھ سے زائد بچے شدید بھوک کا شکار ہیں۔اونروا کے مطابق مارچ سے اب تک اسرائیل نے صرف محدود مقدار میں خوراک اور انسانی امداد غزہ میں داخل ہونے دی ہے جو موجودہ ضروریات کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کی بندش اور مستقل بمباری کے باعث بچوں کی صحت اور نشوونما کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

غزہ کے ہاسپٹل زخمیوں کیلئے ٹراما سنٹر بن گئے :عالمی ادارہ صحت
جنیوا، 24 جولائی (یو این آئی) عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ غزہ کے ہاسپٹل ٹراما سنٹر بن گئے ہیں جو امداد کے متلاشی افراد پر حملوں کے نتیجے میں زخمیوں سے بھر رہے ہیں۔ ڈبلیوایچ او نے اپنے بیان میں کہا کہ کھانے کی تلاش میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں ہمارے اپنے عملے کو بھی کھانے اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔غزہ میں ہر شخص خوراک کی تلاش میں ہے اور زندگی مفلوج ہو چکی ہے فوری خوراک کی فراہمی ہی بحران کوروک سکتی ہے ۔غزہ میں 20 فیصد سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں جب کہ غزہ میں شدید غذائی قلت کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے ۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ غزہ میں اجتماعی بھوک ایک انسانی ساختہ سانحہ ہے غزہ میں 80 دن سے زائد مسلسل ناکہ بندی نے قحط پیدا کر دیا ہے ۔غزہ میں بھوک سے بلکتے بچوں اور قحط کی خوفناک صورتحال پر امریکی یہودی بھی بول پڑے ۔امریکی یہودی کمیٹی نے ردعمل میں کہا ہے کہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے ہر ضرورت مند کو بروقت اور محفوظ امداد ملنی چاہیے ۔یہودی کمیٹی نے بیان میں کہا کہ انسانی امداد پر سیاست یا سزا دینا اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے۔
نسل کشی کی پالیسی پر گامزن اسرائیل کی جانب سے امداد روکنے سے غزہ میں بھوک سے شہید ہونے والوں کی تعداد 111 ہو گئی۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں فاقہ کشی و غذائی قلت سے 10 فلسطینی شہید ہوئے ۔غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے باعث اجتماعی قحط پر 100 سے زائد این جی اوز نے انتباہ جاری کرتے ہوئے عالمی برداری سے مدد کی اپیل کی ہے ۔ انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے اور امداد پر پابندیاں ہٹائی جائیں۔مرسی کور، ایم ایس ایف، نارویجن رفیوجی کونسل سمیت 109 تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امدادی کارکن خود قطاروں میں کھڑے ہو کر خوراک لینے پر مجبور ہو گئے ، اسرائیل کی مکمل ناکہ بندی نے غزہ میں قحط، افراتفری اور موت کو جنم دیا ہے