کارپوریٹ ہاسپٹل میں علاج کا مطالبہ، معین آباد کی متاثرہ لڑکی کو انصاف نہیں ملا
حیدرآباد۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے عثمانیہ ہاسپٹل پہنچ کر کھمم کی متاثرہ دلت لڑکی سے ملاقات کی۔ انہوں نے ڈاکٹرس سے علاج کے سلسلہ میں معلومات حاصل کیں اور ہدایت دی کہ دلت لڑکی کو بہتر علاج فراہم کیا جائے اگر عثمانیہ ہاسپٹل میں علاج ممکن نہیں تو کسی کارپوریٹ ہاسپٹل منتقل کیا جائے ۔ بھٹی وکرامارکا نے دلت لڑکی سے بات چیت کی اور بھروسہ دلایا کہ کانگریس پارٹی انصاف دلانے کے لیے جدوجہد کرے گی اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ دلت لڑکی کو جو گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کررہی تھی۔ عصمت ریزی کی کوشش کی گئی اور مزاحمت کرنے پر زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔ دلت لڑکی بری طرح جھلس چکی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ واقعہ کے تین ہفتے بعد پولیس خواب غفلت سے بیدار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ضلع حکام خاطی کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بھٹی وکراماکا نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں دلت اور اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ عرصہ میں معین آباد میں مسلم لڑکی کے ساتھ عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ پیش آیا لیکن حکومت کے کسی نمائندے نے متاثرہ خاندان سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے سلسلہ میں کے سی آر کے دعوے محض دکھاوا ہے۔ انہوں نے کھمم کی متاثرہ لڑکی کو کارپوریٹ ہاسپٹل میں منتقل کرنے اور لیڈی ڈاکٹر کی موجودگی میں بیان درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری خرچ پر متاثرہ لڑکی کا علاج کرائے اور افراد خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔