بھٹی وکرمارکا کے الزامات پر چیف منسٹر کی برہمی

   

ضمانت روزگار اسکیم کے فنڈس پر اسمبلی میں وضاحت
حیدرآباد۔7 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) ضمانت روزگار اسکیم کے فنڈس کی منتقلی سے متعلق سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا کے الزام پر چیف منسٹر کے سی آر نے برہمی کا اظہار کیا۔ اسمبلی میں شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی پر مباحث کے دوران بھٹی وکرمارکا نے مرکز کی دیہی ضمانت روزگار اسکیم کے فنڈس کی ریاستی اسکیمات کے لئے منتقلی کی شکایت کی ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھٹی وکرمارکا ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح کے الزامات دراصل ان کی معلومات میں کمی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ہم جسے پنچایت راج کہتے ہیں، مرکز میں اسے دیہی ترقی کہا جاتا ہے ۔ میں نے گزشتہ دنوں اسمبلی میں واضح کیا تھا کہ پنچایت کی ترقی کیلئے مرکز کے فنڈس کی گنجائش نہیں ہے۔ ملک میں ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے فنڈس کی اجرائی کے مختلف طریقہ کار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فینانس کمیشن تمام ریاستوں سے مشاورت کے بعد مجالس مقامی کے اداروں کی ترقی کیلئے ہر سال فنڈس کی اجرائی کی سفارش کرتا ہے۔ فینانس کمیشن کی منظوری دراصل مرکزی حکومت کی منظوری نہیں ہوتی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز کی جانب سے وصول کئے جانے والے ٹیکس میں سے کچھ رقم فینانس کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً جاری کی جاتی ہے۔ مرکزی حکومت کا کام صرف پوسٹ مین کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر یہ غلط فہمی ہے کہ مجالس مقامی کیلئے مرکز سے فنڈس جاری کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹی وکرمارکا اور دیگر ارکان کو الزام تراشی میں حقائق سے کام لینا چاہئے۔ ر